مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 568
فرموده ۱۹۸۱ء 568 د دمشعل را دوم کے متعلق یہ الفاظ بولے اور مرتد کے متعلق یہ الفاظ بولے اور مرتد کے جو قرآن کریم نے معنی کیے تھے آج دنیا ان معنوں کو بھی بھول گئی۔اس بحث میں میں اس وقت پڑنا نہیں چاہتا۔تو یہاں سزا نہ دینا اس لئے ہے کہ شاید تو بہ کر لے۔وہاں جہنم میں بھیجنا اس لئے ہے کہ رحمت نازل ہو اور جتنی جتنی وہ اصلاح کرتا جائے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قریب ہوتا جائے۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ قرآن کریم نے فرما یار حمتی وسعت کل شی (الاعراف آیت: ۱۵۷) قرآن کریم نے یہ بھی کہہ دیا کہ میں شرک کو معاف نہیں کروں گا یہ کیا ؟ دونوں میں جوڑ کیسے میرا دماغ جوڑے؟ تو خدا تعالیٰ نے مجھے سمجھایا کہ میں نے انہیں کہا کہ پوری سزا دوں گا مشرک کو۔یہ کہا ہے معاف نہیں کروں گا۔یعنی سزا کچھ نہ کچھ ضرور دوں گا۔غیر مشرک کو پوری کی پوری معافی بھی مل سکتی ہے۔یعنی کسی ایک گناہ کی بھی سزا نہ ملے۔یا کسی ایک گناہ کے ایک ہزارویں حصے کی بھی سز انہیں دوں گا۔پوری معافی مل جائے گی۔لیکن مشرک کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوگا۔لیکن رحمتی وسعت کل شی۔ایک مشرک کو جو مستحق تھا کہ ایک کروڑ سال وہ جہنم میں گزارے اسے ایک سال جہنم میں رکھ کر سزا دیدی اور پھر معاف کر دیا۔اللہ بڑا رحم کرنے والا ہے لیکن اس کی رحمتوں کو انسانی دماغ بعض دفعہ محدود کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس واسطے مجھ سے تو کوئی پوچھے کہ کافر جہنم میں جائے گا؟ میں کہوں گا مجھے کیا پتہ جائے گا یا نہیں۔میرا کام ہی نہیں یہ۔میرا یہ کام ہے کہ اس کو سمجھاؤں۔اگر وہ کفر پہ مرے تو پھر میرا تو اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔میں اس دنیا میں ہوں۔وہ چلا گیا یہاں سے پھر يغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء (المائدہ آیت: ۱۹) جس کو چاہیے گا معافی دے دے گا۔خالق ہے۔مالک ہے۔کسی کی گرفت اس پر نہیں۔جس کو چاہے گا معاف کر دے گا۔جس کو چاہے گا سزادے دے گا لیکن اس کے نتیجے میں ہمیں بے فکرے نہیں بن جانا چاہیئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایک سیکنڈ کا جو قہر ہے اور غضب ہے وہ بھی انسان برداشت نہیں کر سکتا۔ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے اپنی زندگی میں پیدا کرو اپنے اعمال میں اپنی صفات میں اور دوسرے اس کے لئے یہ ضروری ہے اخلاقی استعدادوں کی کامل نشو و نما کے لئے کہ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔کسان خلقه القرآن (مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحه ۹) نبی اکرم مال لینے کے اخلاق قرآن کریم کی کامل اتباع تھی۔آپ بھی قرآن کریم کی وحی کی کامل اتباع کر کے نبی کریم کے اس اسوہ پر عمل کرتے ہوئے کہ ان اتبع الا ما يوحی الی (یونس آیت۔۱۶) جو مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے میں اس کی اتباع کرتا ہوں۔قرآن کریم نے جو اخلاق پیدا کے محمد ﷺ میں، ہم میں وہ نہیں پیدا ہو سکتے۔کیونکہ ہماری استعداداتی نہیں ہے۔لیکن ہماری استعداد اس اسوہ پر ان کے نقش قدم پر چل کے اپنے کمال کو پہنچ سکتی ہے۔محمد ﷺ اپنی استعداد کے مطابق اپنے کمال کو پہنچے۔ہم میں سے ہر ایک اپنی استعداد کے مطابق اپنے کمال کو پہنچ سکتا ہے۔اس کے لئے مطہر بننے کی ضرورت ہے۔کیونکہ فرمایا۔لايسمسه الا المطهرون (الواقعہ آیت ۸۰) محض ظاہری اتباع وحی الله