مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 54
د دمشعل راه دوم فرمودہ ۱۹۶۷ء 54 کوشش کرو اور گنا ہوں اور بدیوں سے بچنے کی کوشش کرو۔جب ہم انہیں یہ کہتے ہیں تو وہ ہم سے یہ امید رکھتے ہیں اور خود ہمیں بھی یہ احساس ہونا چاہیے ) کہ ہمارے دل میں بھی خوف اور اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہو جائے ورنہ ایسے شخص کے منہ سے یہ فقرہ زیب نہیں دیتا جس کا دل خدا کے خوف اور اس کی خشیت سے عاری ہو۔خدام الاحمدیہ کے کاموں کی عمارت کی بنیاد صلى الله میں آج اپنے عزیز بچوں اور بھائیوں کو اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ تم اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت پیدا کرو اور ان بنیادوں پر ہی خدام الاحمدیہ کے سارے کاموں کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔اگر بنیاد نہ ہو تو پھر آپ ہوائی قلعے تو بنا سکتے ہیں لیکن وہ مضبوط قلعے نہیں بنا سکتے جن کے متعلق بعض دفعہ خدا تعالیٰ یہ اظہار کرتا ہے کہ میرا انبوب محمد ﷺ ان قلعوں میں پناہ گزین ہوتا ہے۔محمد رسول اللہ ہے صرف اس قلعہ میں پناہ گزین ہو سکتے ہیں۔صرف وہ قلعہ آپ کے دین کی حفاظت کر سکتا ہے صرف وہ قلعہ دشمن کے حملوں سے آپ کے لائے ہوئے اسلام کو بچا سکتا ہے۔صرف اس قلعہ سے جوابی اور جارحانہ حملہ کیا جا سکتا ہے جو محمد رسول اللہ علہ کے نام پر اور اللہ کے خوف اور خشیت کی بنیادوں کے اوپر کھڑا کیا جائے جو قلعہ ہوا میں بنایا جائے اس کے نتیجہ میں خیالی پلاؤ پکائے بھی جا سکتے ہیں اور شاید کھائے بھی جاسکیں۔لیکن خیالی پلاؤ نے نہ آپ کو فائدہ دینا ہے اور نہ دنیا کو فائدہ پہنچانا ہے۔ان بنیادوں کو مضبوط کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ہر شخص کے لئے انفرادی طور پر اور جماعت کے لئے بحیثیت جماعت خصوصاً آنے والی نسلوں کو اس طرح تربیت دینا کہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور خشیت اللہ سے وہ معمور ہوں بڑا ضروری ہے۔کیونکہ ہمارا کام ایک نسل پر پھیلا ہوا نہیں بلکہ کئی نسلوں نے اس کی تکمیل کرنی ہے۔پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔تو ہم یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم ہر بڑے کا احترام کریں گے۔کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص بڑے کا احترام نہیں کرتا وہ میری فوج کا سپاہی نہیں۔جب ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں اللہ صلى الله تعالیٰ کا خوف ہے تو ہم یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم چھوٹوں پر شفقت کرنے والے ہیں کیونکہ نبی اکرم ہے نے فرمایا ہے کہ جو شخص چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور رحم کی نگاہ سے انہیں نہیں دیکھتا اور ان کی صحیح رنگ میں تربیت نہیں کرتا وہ میری فوج کا سپاہی نہیں ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے تو ہم یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ کیسی بھی حالت ہو جس میں ہم اپنے آپ کو پائیں۔ہم جھوٹ کی راہ بھی اختیار نہیں کریں گے۔پختگی کیساتھ صدق اور سداد پر قائم ہوں گے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے تو ہم یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم دنیا سے بدی کو مٹائیں گے اور دنیا کے دل سے بتوں کو نکال کر باہر پھینک دیں گے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے تو ہم یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ قرآن کریم کے سب حکموں پر ہم