مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 566
فرموده ۱۹۸۱ء 566 و مشعل راه جلد دوم اپنی آنکھ سے حاصل کر لیتا ہوں۔ان کے درخت درختوں کی عمران کے فاصلے مجھے کسی سے پوچھتے نہیں پڑتے۔موٹر گزررہی ہوتی ہے۔میں اپنے اندازے لگا تا چلا جاتا ہوں۔تو یہ صرف میرے لئے دروازہ نہیں کھلا۔ہم میں سے ہر ایک کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چوکس اور بیدار رہ کر زندگی گذارنے کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔چوتھے تیز نظر یعنی اتنی تیز کہ جو دوسری نظر دس سیکنڈ میں اس چیز کو Grasp کرتی ہے ، پکڑتی ہے جزو دماغ بناتی ہے۔اس کے بیسویں حصے میں آدھے سیکنڈ میں وہی چیز اس کے دماغ کا جزو بن جاتی ہے۔جس کا مطلب ہے کہ مشاہدہ کی عادت ڈالنا اور اس عادت کی نشو و نما کو بھی کمال تک پہنچانا۔ذہنی قوتوں کی نشو و نما کے لئے جو چیزیں چاہیں وہ میں گنا رہا ہوں) پانچویں چیز یہ کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے غیر محدود تعداد میں بکھرے پڑے ہیں۔اس لئے ہمیں اپنے اندر یہ عادت پیدا کرنی چاہیئے کہ ہم صفات باری کے جلووں سے پیار کریں اور ان کے مطالعہ سے فطری اور ذہنی لذت محسوس کریں۔بڑی عجیب ہے یہ لذت۔مثلاً بارش ہوئی موسم بدل رہا ہے۔کھڑکی کے سامنے بیٹھ کر صبح کا ناشتہ کرتا ہوں۔سامنے یکھتے ہیں میں بھی، منصورہ بیگم بھی کہ درختوں کی شکل ہی بدلی ہوئی ہے۔ان کے اوپر سبزہ خوبصورتی ، جوانی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اپنی اس وقت کی زندگی سے لذت محسوس کر رہے ہیں۔تو صفات باری سے پیار کرنا ذہنی قوتوں کی نشونما کے لئے ضروری ہے۔اور صفات باری کے جلووں کے مطالعہ سے فطری ذہنی ( میں نے جان کے فطری ذہنی“ کہا ہے کہ فطرت میں تو ہے۔ہمیں اس کو ذہنی بھی بنانا پڑے گا۔یعنی کانشس مائند Conscious Mind میں اپنے لانا پڑے گا ) ذہنی لذت محسوس کرنا۔یہ جو صفات باری کے جلوے ہیں یہ بنیادی طور پر دو قسموں میں دوگروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔نکلیں لاوہ جلوے جن کے نتیجے میں ساری دنیا کے علوم اور سائنسز (Sciences) اور وہ جلوے نمبر ۲ جو سارے انسانوں کی ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔قرآن کریم کی آیات۔ہماری زندگی کے ہر پہلو کے متعلق ہمیں ہدایات دے دی ہیں۔اور ہم سے وعدہ ہے۔ہمیں خدا نے طاقت دی۔ہمیں خدا نے سمجھ دی۔ہمیں خدا نے بشارتیں دیں اور ان بشارتوں میں سے ایک یہ ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:- اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کی رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے پھر آپ فرماتے ہیں:- ( تذكرة الشهادتين صفحه ۶۴) اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی