مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 565
565 فرموده ۱۹۸۱ء د و مشعل راه جلد دوم نہ ہوگی وہ جسمانی بددیانتی کرے گا مثلاً جانور چرانے کے لئے باہر گیا ہے۔اتنی طاقت نہیں ہے کہ سارا دن جانوروں کے ساتھ پھرے۔ایک درخت کے نیچے بیٹھ جائے گا چاہے بھیڑیا بھیٹروں کو کھا جائے۔تو القوی ہو جو جسمانی کمزوری کے نتیجہ میں بددیانتی کا مرتکب نہیں ہوگا اور الامین، اخلاقی کمزوری کی وجہ سے وہ بددیانتی کا مرتکب نہیں ہوگا۔جو قوی بھی ہوگا، دیانتدار ہوگا اپنے جسم کی صحت کے لحاظ سے اور امین بھی ہوگا۔اپنے اچھے اخلاق کے لحاظ سے وہ دیانتدار ہوگا۔جس میں دو دیانتداریاں پائی جائیں گی۔اس سے اچھا اور کونسا مزدور تمہیں مل سکتا ہے۔حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ قیامت والے دن سب سے پہلا سوال خدا تعالیٰ بندے سے یہ کرے گا۔میں نے تجھے بڑی اچھی صحت دی تو نے اس سے کیا کام لیا۔دوسرا مطالبہ یہ ہے :- دینی قوتوں کی نشو و نما ذہنی قوتوں کی نشو و نما کو کمال تک پہنچایا جائے۔اب جو پڑھنے والے بچے ہیں بڑا ذہین بچہ ہو۔جس بچے میں خواہ کتنا میں خواہ کتنا ہی ذہین ہو ہنی آوارگی پیدا ہو جائے وہ پڑھائی میں اچھا نہیں رہ سکتا۔تو ذہنی قوتوں کی صحیح نشو ونما نہیں ہوگی۔اس کے اندر کوئی بدی نہیں ہوگی۔بہت سارے میں نے ایسے بچوں کو دیکھا ہے کوئی بدی نہیں۔کوئی بدا خلاقی نہیں ہے لیکن ذہنی آوارگی ہے۔وقت ضائع کرنا گپیں مارنا' دوست مل گئے ہیں، لطیفے سنائے جارہے ہیں اور پڑھائی کی طرف توجہ نہیں۔یہ ذہنی آوارگی ہے۔میں اس ذہنی آوارگی کی بات کر رہا ہوں اس وقت۔ذہنی قوتوں کی کامل نشو ونما کے لئے یہ ضروری ہے کہ دینی آوارگی سے بچا جائے اور پڑھائی پر توجہ قائم رکھنے کی عادت ڈالی جائے اور مجاہدہ کے ذریعے بتدریج ذہنی ورزشیں کرا کے زیادہ بوجھ ڈالا جائے ذہن کے اوپر۔عمر کے لحاظ سے بھی جوں جوں عمر بڑھتی جائے اور جسم کی طاقت بڑھتی جائے زیادہ گھنٹے پڑھنے والا ہو۔آکسفورڈ میں Balliol کالج کے طلبہ جہاں میں پڑھ رہا تھا جو اچھے ذہین لڑکے محنت کرنے والے تھے وہ کلاسز کے علاوہ اتوار سمیت ہفتے کے سات دن بارہ تیرہ گھنٹے روزانہ پڑھا کرتے تھے۔اگر ہم نے اس نوجوان نسل کا مقابلہ کرنا ہے تو سکم از کم اتنا پڑھیں Plus ہماری دعائیں ان سے آگے نکل جائیں گے لیکن اگر ہم ناشکری کرتے ہوئے خدا کی ان سے کم پڑھیں اور دعا بھی نہ کریں تو ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔لیکن نہ کر سکنے کا زمانہ گذر چکا اب۔میں بتا رہا ہوں آپ کو۔اب ہمیں کرنا پڑے گا مجاہدہ ذہنی ورزش زیادہ بوجھ ڈالتے چلے جانا۔تیسرے یہ کہ چوکس اور بیدار رہنا۔اس کی بھی عادت ہوتی ہے۔دو آدمی گزرتے ہیں ایک راستے پر۔ایک شخص جو چوکس اور بیدار ہے سو چیزیں اس کی نظر پکڑتی ہے اور ایک دوسرا شخص ہے۔اس سے پوچھا جائے تو وہ ایک دو سے زیادہ بتا ہی نہیں سکتا۔مشاہدہ کی عادت نہیں۔میں مثلاً یورپ میں پھرتا ہوں۔میں آدھا تجربہ وہاں