مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 561
561 فرموده ۱۹۸۱ء دو مشعل راه جلد دوم کے دوطرف ان کی بڑی سڑک گزر رہی ہے۔جس میں چار Lanes ہیں اور قرطبہ سے میڈرڈ جانے والی شاہراہ پر یہ زمین ہے جس میں پہاڑی کا شبہ ہے اس کے سب سے اوپر کے پوائنٹ (Point) پر مسجد بن رہی ہے۔ہر آنے جانے والے کی نظر پڑتی رہے گی اس مسجد پر اور اس عبارت پر بھی کہ لا اله الا الله محمدرسول الله اور تیسرے یہ کہ پانچ سات سال ہوئے کینیڈا میں کیلگری کے شہر میں ایک چھوٹی سی جماعت پیدا ہوگئی۔یہاں سے گئے۔دوسرے ملکوں سے آئے۔بہر حال وہاں ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔انہوں نے ایک گھر خریدنے کے لئے چندہ اکٹھا کیا تا کہ نماز وہاں اکٹھے پڑھ سکیں۔بچوں کی تربیت ہو سکے۔ان کو قرآن کریم ، قاعدہ یسر نالقرآن، دینی باتیں سکھائی جاسکیں۔جب تک جماعت کا گھر نہ ہو اس وقت تک صحیح تربیت نہیں ہو سکتی۔انہوں نے لکھا کہ ایک چھوٹا سا مکان شہر کے اندر ہمیں مل رہا ہے قریباً ستر ہزار ڈالر کا۔آدھی رقم ہم نے آپس میں مل کے اکٹھی کر لی ہے۔بقیہ کی رقم ہمیں قرض دے دی جائے۔ہم سال بہ سال قسط وار رقم ادا کر دیں گے۔ہر چیز ہر عمل کا بابرکت ہونے کے لئے دعا پر انحصار ہوتا ہے۔دعائیں کیں۔جب انشراح ہوا میں نے کہا لے لو۔یہ نہیں پتہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم یہ کیا مہربانی کرنا چاہتا ہے۔یہ پانچ سات سال پہلے کی بات ہے۔اب مجھے چند ہفتے ہوئے یہ خط ملا ان کا کہ شہر سے سات میل کے فاصلے پر چالیس ایکٹر زمین اور جو موجودہ مشن ہاؤس ہے اس سے کئی گنا بڑا اور اچھا بنا ہوا مکان ہے مل رہا ہے۔ان کی خواہش تھی کہ اگر پھر میرا اتفاق ہو وہاں جانے کا تو اتنی بڑی جگہ ہے کہ ہمارا قافلہ بھی وہاں ٹھہر سکتا ہے اور تین لاکھ پچاس ہزار ڈالرکو وہ جگہ مل رہی تھی۔تو خط پڑھ کے یہ احساس ہوتا تھا کہ اب انہوں نے ستر ہزار سے چھلانگ ماری تین لاکھ پچاس ہزار پر لیکن آگے لکھا کہ رقم کی ہمیں اس لئے فکر نہیں کہ وہ جو ستر ہزار ڈالر کا مکان لیا تھا وہ چار لاکھ نہیں ہزار ڈالر میں بک جائے گا اور فرق قیمت خرید اور قیمت فروخت کا ٹھیک ستر ہزار ہے۔میرے ذہن میں آیا کہ ہمارے خدا نے پیار سے کہا۔یہ پکڑا اپنی رقم ستر ہزار اور ساری کی ساری تین لاکھ پچاس ہزار کا میں انتظام کر دوں گا اور انتظام کر دیا۔اس وقت گفت و شنید ہو رہی تھی۔اجازت لے رہے تھے وہ۔اب ان کی تار مجھے مل گئی ہے کہ اس کا معاہدہ Sign ہو چکا ہے دستخط ہو گئے ہیں اور تین لاکھ میں ہزار میں وہ چالیس ایکٹر ازمین اور بہت بڑا مکان مل گیا۔اب آپ یہ سوچیں۔دنیا ہم پہ اعتراض کرتی اور ہمیں طعنے دیتی ہے کہ یہ جو تم اتنے پیسے خرچ کر دیتے ہو یہ ضرور کوئی دنیوی طاقت اور ایجنسی اور Source of سرمایہ ہے جو تمہیں رقم دیتا ہے۔اب یہاں تو یہ ہوا کہ جو پیسے ہم نے لگائے ہوئے تھے وہ بھی اللہ تعالیٰ نے واپس کر دئیے اور کہا ایک پیسہ جماعت کا نہیں لگنے دوں گا۔سارے کے سارے کا میں نے انتظام کر دیا ہے۔اب قیمت کا بڑھانا تو ہمارے اختیار میں نہیں تھا۔میں ہنسا کرتا ہوں ایسے لوگوں سے بات کرتے ہوئے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ اسرائیل ہمیں پیسے دے سکتا ہے (جو نہیں دیتا )۔یا