مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 553
553 فرموده ۱۹۸۱ء دد دو مشعل راه جلد دوم تھے۔چار پانچ لڑائیاں انہوں نے وہاں لڑیں۔پھر وہ قیصر کے مقابلہ پر چلے گئے۔مسلمان فوج چار ہزار گھوڑ سوار اور چودہ ہزار پیادہ تھی اور ان کے مقابلہ میں ہمیشہ قریباً چار گنا زیادہ فوج کسری کی ہوتی تھی۔ایک دن کی لڑائی اگر آٹھ گھنٹے کی مجھی جائے تو ہر دو گھنٹے کے بعد کسری کی فوجوں کا کمانڈر اگلی لڑنے والی صفوں کو پیچھے ہٹا لیتا تھا اور تازہ دم فوج آگے بھیج کے ان کی صفیں بنالیتا تھا۔طریقہ یہ ہوتا تھا کہ درمیان لڑنے والوں کے درمیان سے وہ آگے بڑھتے تھے اور محاذ کو سنبھال لیتے تھے اور لڑنے والے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔اور مسلمان فوج کا ہر سپاہی آٹھ گھنٹے لڑتا تھا۔کسری کا سپاہی ہر دو گھنٹے کے بعد تازہ دم آگے آتا تھا۔لیکن باوجود اس کے کہ کسری کے تازہ دم فوجیوں کا وہ مقابلہ کر رہے ہوتے تھے آٹھ گھنٹے ( اپنی زندگی کی حفاظت کی تو انہیں پرواہ نہیں تھی لیکن ) خدا کے نام پر محمد ﷺ کی جان نثاری کا یہ مقابلہ تھا کہ آٹھ گھنٹے لڑتے چلے جاتے تھے۔کسی کے دل میں یہ خواہش ہو کہ وہ ان حالات میں آٹھ گھنٹے دشمن کا مقابلہ کرئے اُس دشمن کا کہ ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج اس کے سامنے آ رہی ہے وہ اس وقت تک ایسا نہیں کر سکتا جب تک تیاری نہ کی ہو اس کے لئے یعنی آٹھ گھنٹے لگا تار تلوار چلانے کی مشق نہ کی ہو اور آٹھ گھنٹے تلوار چلانے کے بعد وہ تھکاوٹ محسوس نہ کرے مزید ٹرائی کے لئے تیار ہو۔صلى الله اگر نیت ہو تو تیاری کی جاتی ہے تو ایک تیاری تو اسلحہ خریدنے کی ہے۔دوسری تیاری اُس اسلحہ کے استعمال کی ہے۔مسلمان کے لئے تیاری یک ایسے استعمال کی تھی کہ اپنے سے کہیں زیادہ تعداد میں دشمن اور ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج کا مقابلہ کبھی پانچ گنا زیادہ ان کی فوج انہی اٹھارہ ہزار کے مقابلہ میں۔جس کا مطلب یہ تھا کہ قریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد تازہ دم فوج سامنے آ گئی۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہتے ہو کہ تڑپ بڑی تھی ہم بھی پکے مومن ہیں مگر مجبوریاں ایسی آگئیں کوئی بچہ بیمار ہو گیا۔بہانہ جوطبیعت۔گھر خطرے میں پڑ گیا، یہ ہو گیا وہ ہو گیا ورنہ پیچھے رہ نہ جاتے۔خدا کہتا ہے تم جھوٹ بولتے ہو۔اور دلیل یہ کہ اگر تمہیں خواہش ہوتی جہاد پر نکلنے کی تو اس کے لئے ہر ممکن تیاری کی ہوتی۔نہ تم نے اسلحہ پر مال خرچ کیا، نہ تم نے اسلحہ چلانے کی مشق کی ضرورت کے مطابق مشق مشق اتنی کہ مثلاً میں نے تیراندازی کا نام لیا ابھی ایک بار جب خالد بن ولید ہی قیصر کی فوجوں کے خلاف لڑرہے تھے تو دمشق کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔قیصر کی فوج کا جو کمانڈر تھا اس نے جہالت سے مسلمان پر رعب ڈالنے کے لئے یہ نہ سمجھتے ہوئے کہ مسلمان پر رعب نہیں ڈالا جاسکتا کیونکہ وہ تو صرف خدا سے ڈرتا ہے یہ منصوبہ بنایا کہ نوجوان لڑکیوں اور راہبوں، پادریوں کو فوجی لباس پہنا کے اور ہاتھ میں نیزے دے کر اور تلواریں لٹکا کے فصیل کے اوپر کھڑا کر دیا۔کئی ہزار مردوزن کو۔خالد بن ولید کی دور بین آنکھ مومنانہ فراست رکھنے والی۔انہوں نے کہا اچھا میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو تم۔آپ نے اپنی پیادہ فوج کو پیچھے کیا اور تیر اندازوں کو آگے بلایا۔اور تیراندازوں کو یہ حکم دیا کہ تم یہ جو سامنے تمہارے کھڑے