مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 552
د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۸۱ء حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۱۸ ستمبر ۱۹۸۱ءکو بیت اقصیٰ ربوہ میں جو خطبہ جمعہ ارشاد فر مایا اس کا متن پیش خدمت ہے۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- 552 اکتوبر کے آخر میں خدام الاحمدیہ اطفال الاحمدیہ لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ اور انصار اللہ کے اجتماع ہوں گے۔ہے۔آج میں ان اجتماعات کی تیاری اور اہمیت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولوارادوا الخروج لاعدو اله عدة (التوبة آيت : ۴۷) قرآن کریم کی یہ بھی ایک عظمت ہے کہ وہ ایک واقعہ کی اصلاح جب کرتا ہے تو چونکہ یہ ابدی صداقتوں پر مشتمل ہے اُس کا بیان اس طرح کرتا ہے کہ واقعہ کیطرف اشارہ بھی ہو جائے اور ایک بنیادی اصول اور حقیقت بھی بیان کر دی جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کمزوروں کے متعلق اور منافقوں کے متعلق جو جہاد میں نہیں نکلے اور بعد میں عذر کرنے شروع کئے کہ یہ وجہ تھی اور یہ وجہ تھی ہمارے گھر ننگے تھے ڈکیتی کا خطرہ تھا وغیرہ وغیرہ۔اس لئے ہم نہیں جاسکے ورنہ دل میں بڑی تڑپ تھی بڑی خواہش تھی ہمارے سینوں میں بھی مومنوں کے دل دھڑک رہے ہیں وغیرہ۔اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو تمہارا ارادہ تمہاری نیت کبھی بھی جہاد میں شامل ہونے کی نہیں ہوئی۔اور دلیل یہاں یہ دی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو اس کے لئے تیاری بھی ہوتی۔جس شخص نے اُس زمانہ کے حالات کے مطابق نہ کبھی تلوار رکھی نہ نیزہ نہ تیر کمان نه زرہ نہ خود نہ نیزے کا فن سیکھا نہ تلوار چلانے کی مشق کی نہ تیر کمان ہاتھ میں پکڑا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ عارضی ضرورتوں کی وجہ سے میں اس جہاد سے محروم ہو رہا ہوں ورنہ دل میں تڑپ تو بہت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دل میں اگر تڑپ ہوتی اگر تمہارا ارادہ اور نیت خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کی ہوئی تو اس کے لئے تمہیں تیاری کرنی پڑتی۔جو مسئلہ زیر بحث ہے یہاں یعنی جہاد بالسیف اُس کے لئے تیاری دو طرح کی ہے۔ایک جہاد کے لئے اسلحہ وغیرہ کی تیاری۔اُس وقت رضا کا رفوج تھی اپنے ساتھ کھانے کا سامان لے کے جاتے تھے اس کی تیاری اور دوسرے مشق ہے تھوڑا کھا کے بھوکا رہ کے مشقت برداشت کرنے کی تیاری تلوار اس طرح چلانے کی تیاری کہ جب کسری کے ساتھ مقابلہ ہوا بعد میں تو کچھ عرصہ حضرت خالد بن ولید بھی اس محاذ پر سپہ سالار کے طور پر لڑ رہے