مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 534
دومشعل تل راه جلد دوم فرموده ۱۹۸۰ء 534 پکڑو اپنا رسالہ اس نے کہا کیوں کیا ہو گیا ہے اسے، ابھی تو آپ نے بڑے شوق سے لیا تھا۔اس نے کہا تم احمدی ہو؟ اس نے کہا ہاں، میں احمدی ہوں۔کہنے لگا ہمارے پر یسٹ (Priest) نے ہمیں کہا ہے کہ کسی احمدی سے کوئی صلى الله کتاب لے کے نہیں پڑھنی۔اس زمانہ میں نبی اکرم ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق و اذا الصحفُ نُشرت (التکویرنا) کے جلوے دیکھے۔جو پہلی صدیاں تھیں چودہویں صدی سے پہلے وہ جہالت کی صدیاں تھیں۔کچھ ابھر رہا تھا علم لیکن اس طرح نہیں جو چودہویں صدی میں ابھرا۔حقیقت یہ ہے کہ سپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد یورپ کو علمی میدان میں بڑا دھکا لگا کیونکہ سپین کے مسلمان علمی میدان میں ان کے قائد اور استاد تھے اور اس کے نتیجہ میں ایک زمانہ آیا جب ایک طرف مسلمان علم سے غافل ہو گیا اور دوسرے طرف عیسائیوں کا وہ منبع جہاں سے وہ علم سیکھتے تھے خشک ہو گیا یعنی انہوں نے اپنے استاد کو خو قتل کر دیا، بھگا دیا، ماردیا، گھر سے بے گھر کر دیا، وہ درسگا ہی نہیں رہیں جہاں سے اپنی علمی پیاس بجھایا کرتے تھے۔یہ پیش گوئی نبی اکرم ﷺ کی کہ واذا الصحف نُشِرَتْ (التکویر: ۱۱)۔یہ پیشگوئی دو پہلو رکھتی ہے عام طور پر ایک پہلو پر زور دیا جاتا ہے وہ بڑا اہم ہے ایک نقطہ نگاہ سے لیکن دوسرا بھی کم اہم نہیں ایک یہ ہے کہ اس زمانہ میں جو اسلام کی اصطلاح میں آخری زمانہ ہے اس زمانہ میں کثرت سے طباعت کا، مطبع خانوں کا انتظام ہو جائے گا اور جہاں پہلے خال خال کہیں کوئی کتاب مالتی تھی بڑی کثرت سے کتابیں لوگوں کو ملنے لگ جائیں گی دوسرا پہلو یہ ہے کہ ( بلکہ مجھے یوں کہنا چاہیئے کہ اس کے تین پہلو ہیں) دوسرا پہلو یہ ہے کہ لوگ جو علم کی طرف سے توجہ چھوڑ بیٹھیں گے چودہویں صدی میں پھر علم کی طرف انسان توجہ کرنے لگے گا اور یہ اس لئے پیش گوئی تھی کہ اصل علم تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کی طرف لے جانے والا ہے۔یہ سارا انتظام اس لئے کیا جارہا تھا کہ جب مہدی علیہ السلام خالص اسلام دنیا کے سامنے رکھیں نبی اکرم ﷺ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ، تو ایسے سامان بھی موجود ہوں جو دنیا کے ہر کونے میں آپ کے کلام کو پہنچا سکیں۔اور تیسرا پہلو اس پیشگوئی کا یہ ہے کہ تحقیق کے میدان میں انسان کی کاوش پھر شدت اختیار کرے گی یعنی تحقیق شروع ہو جائے گی۔اب دیکھو تحقیق کے میدانوں میں انسان کی سعی اور جد و جہد اپنے عروج کو پہنچی ہے چودھویں صدی میں اور مطبع خانہ بھی چھاپنے کا جو علم ہے وہ بھی اپنے عروج کو پہنچا چودہویں صدی میں مثلاً کمپیوٹر (Computer) کے ذریعہ کمپوز (Compose) کرنا۔ہمارے نائیجیریا مشن نے قریباً پندرہ ہزار پونڈ کا ایک کمپیوٹر ایسا لیا ہے جو کمپوز کرتا ہے انگریزی کے حروف کو اور عربی اور اردو بھی اس پہ ہوسکتی ہے اگر آپ وہ حصے بھی منگوالیں۔تو اتنا آسان ہے اتنی خوبصورت وہ لکھائی ہے۔تو کمپیوٹر تو ہے ہی دوسری جنگ عظیم کے بعد کی ایجاد جس کا مطلب ہے کہ چودہویں صدی جب قریباً تیسرے کوارٹر میں داخل ہو چکی تھی یعنی پچاس اور پچھتر سال کے اندر یہ ایجادیں ہوئیں۔