مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 522
د مشعل راه جلد دوم د را فرموده ۱۹۷۹ء سید نا حضرت خلیفہ اصبح الثالث نے ۲۰اکتوبر ۱۹۷۹ء واطفال الاحمدیہ کے مرکزی سالانہ اجتماع سے جو خطاب فرمایا تھا۔مکمل متن پیش خدمت ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- 522 اطفال کے نظام کیلئے ایک بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جھنڈیاں ۲ فٹ اونچی ہونی چاہئیں تا کہ میرے اور تمہارے درمیان حائل نہ ہو جائیں۔فرمایا تم ہو اطفال احمدیہ، جماعت احمدیہ میں پیدا ہونے والے یا جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہونے والے اطفال ( بچے ) جن کو ہماری اصطلاح میں سات سے پندرہ سال کا بچہ کہتے ہیں۔بچے بچے میں طفل طفل میں بڑا فرق ہے۔ساری دنیا میں انسان بستے ہیں۔ساری دنیا کے انسان بچے پیدا کرتے ہیں۔سارے ملکوں میں اطفال رہتے ہیں اور ساری دنیا کے اطفال کے ایک حصے کی عمر سات سے پندرہ سال ہے۔دنیا میں بعض ایسے اطفال ہیں کہ جن کو احساس ہے کہ ہمارا مستقبل، ہماری آئندہ زندگی اندھیرے میں ہے اور ناکامیوں میں ہے جس طرح افریقہ کے ممالک کے جو بچے تھے ( اب تو وہاں حالات تبدیل ہو گئے ہیں) پچھلی صدی اور اس سے پہلی صدی میں وہاں کے بچے ہر وقت ڈرتے رہتے تھے کہ کسی وقت عیسائی سفید فام قو میں ہمیں قید کر کے ، غلام بنا کے اپنے ملکوں میں نہ لے جائیں۔انہوں نے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ان بچوں کو بڑوں کے ساتھ ، بڑوں کے علاوہ ماں باپ سے چھڑوا کے، اور بعض دفعہ ماں باپ کو بھی ساتھ قید کیا اور امریکہ میں لے گئے اور اتنی خطرناک قسم کی تکلیفیں ان کو پہنچائی گئیں۔مثلاً سولہ سولہ گھنٹے ان سے کام لیا۔اب اتنا سا بچہ جو میرے سامنے بیٹھا ہے اس سے کمزور صحت والے بچوں سے سولہ سولہ گھنٹے کام لیتے تھے۔کھیتوں میں زمینداروں کے غلام ، کارخانوں میں کارخانہ داروں کے غلام تو ایک وہ بچے بھی ہیں دنیا میں۔اب بھی ہیں جن کا کوئی مستقبل نہیں اور وہ اسے جانتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائیں آپ ان بچوں میں سے نہیں ہیں جن کو یہ خطرہ لاحق ہو کہ ہمیں غلام بنا کے دنیا کی کسی منڈی میں بیچ دیا جائے گا۔کہتے ہیں کہ خفیہ طور پر اب بھی غلاموں کی منڈیاں پائی جاتی ہیں ( واللہ اعلم بالصواب ) جہاں بچوں کو اغوا کر کے لے جاتے ہیں اور بیچا جاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جہاں تک مجھے علم ہے کوئی احمدی بچہ اس ظلم کا نشانہ نہیں بنا ایک تو یہ بچے ہوئے نا۔پھر بعض بچے وہ ہیں جن کا مستقبل یا جن کی آئندہ زندگی اتنی اندھیری نہیں۔تھوڑی سی تعلیم دے دیتے ہیں۔مثلاً جب انگریز حاکم ہوا اور اس نے تعلیم دینی شروع کی تو وہ کہتا تھا کہ دسویں جماعت تک تعلیم دے دو اور ان سے کلر کی کا کام لو۔یہ جو حساب کرنا ہے یا چھوٹے موٹے کام میں حکومت کے وہ ان سے لیا کرو۔ہم اونچے لوگ ہیں، ہم یہ کام کیوں کریں، ہمارے بچے یہ کام کیوں کریں۔یعنی تھوڑا سا پڑھا بھی دیا اور حقارت کی نظر سے