مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 512 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 512

مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۹ء 512 حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ ۱۹ را کتوبر۱۹۷۹ء کی افتتاحی تقریب خطاب فرمایا۔متن پیش خدمت ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے خدام کی حاضری کے بارہ میں فرمایا:۔امسال میں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تمام جماعتوں کے نمائندے اس اجتماع میں شامل ہوں۔نمائندے شام تک آتے رہتے ہیں بعض مجبوریوں کی بناء پر بعض لوگ کل بھی آئے ہیں تھوڑے بہت اکا دُگا۔اس وقت تک جوشکل نکلی ہے وہ یہ ہے کہ گذشتہ برس آخری دن ۶۵۳ مجالس شامل ہوئی تھیں اور آج پہلے دن ۶۷۷ مجالس شامل ہوئی ہیں۔آخری دن سے زیادہ ہیں مگر کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔اور ممالک بیرون پچھلے ۴ امسال ۶ خدام بیرون پچھلے سال ۲۹۰۲۔امسال ۳۱۳۹۔یہ پہلے دن ہی فرق پڑا ہے خدا کرے آجائیں اور دوست۔کچھ تھوڑی سی بیداری پیدا ہوئی ہے پہلے کے مقابلہ میں۔قرآن کریم کے ذریعہ ہر ایک کے حقوق کا قیام پھرفرمایا: - پہلے بھی کئی بار اپنے خطبات میں میں یہ بات بتا چکا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو عظیم شریعت بنی نوع انسان کی طرف لیکر آئے قرآن عظیم کی شکل میں پہلی دفعہ انسان نے یہ دیکھا کہ دنیا کی ہر چیز کے حقوق قائم بھی کئے گئے اور ان کی حفاظت بھی کی گئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف انسانوں کیلئے رحمت نہیں تھے بلکہ رحمۃ للعالمین تھے۔ساری کائنات کیلئے کائنات کی ہر شے کیلئے رحمت بن کر دنیا کی طرف مبعوث ہوئے اور نوع انسانی اس کائنات کا ایک حصہ ہے اور ایسا ہے جس کے لئے نہ صرف اس جہاں کی نعماء باری مقدر ہیں بلکہ مرنے کے بعد ایک زندگی بھی موعودہ ہے یعنی جس کا وعدہ دیا گیا ہے اس کو اور یہاں نہ سمجھ میں آنے والی نہایت ہی عظیم۔اس دنیا کے مقابلے میں بہت حسین بہت زیادہ سرور پیدا کرنے والی نعماء انسان کی اُخروی زندگی سے تعلق رکھنے والی ہیں۔انسان کے علاوہ کائنات کی کوئی ایسی شئے نہیں کہ جس کو دنیوی فنا کے بعد پھر جنت میں لے جایا جانا ہو اور وہاں اس کو نعماء ملنی ہوں۔انسان کو اس جہان میں اس لحاظ سے سب سے بڑا حصہ ملا کہ اس کو یہ قو تیں اور استعداد یں دی گئیں کہ دنیا کی ہر چیز سے وہ فائدہ اٹھائے تا کہ اخروی زندگی میں ایک تربیت یافتہ اور کامل نشو و نما حاصل کرنے کے بعد وہ داخل ہونے والا ہو۔اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ انسان کے جو حقوق قائم کئے گئے ہیں وہ کسی اور نوع کے قائم نہیں کئے گئے ہیں۔