مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 505
505 فرموده ۱۹۷۹ء د و مشعل راه جلد دوم دد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مثال دی ہے اور اس میں ساری باتوں کا خلاصہ بیان کر دیا ہے۔وہ مثال یہ ہے کہ آپ آفتاب ہدایت ہیں۔یعنی ہدایت کا ایک سورج ہے اور وہ محمد یتے ہیں۔جو شخص سورج کے سامنے کھڑا ہوگا۔اس پر اس کی شعاعیں پڑیں گی لیکن جو شخص کمرے میں داخل ہو کر دروازے بند کر دے تو وہ روشنی سے محروم ہو جائے گا۔جو شخص محمد اللہ کے سامنے ادب سے کھڑا نہیں ہوگا تو وہ محمد ﷺ کی شعاع سے محروم ہو جائے گا۔آپ کی شعاع دھوپ کی طرح ہے۔ہم اس وقت تک منور رہ سکتے ہیں جب تک ہم آپ کے سامنے کھڑے رہیں اور ہم پر آپ کی شعاع پڑتی رہے۔آپ سے دوری کی راہوں کو اختیار کرنے والے خدا کے غضب کو بلانے والے ہیں اور جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی عبد بننے کے لئے اس مقصد میں ناکام ہونے والے ہیں۔پس دوسرا بنیادی سبق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دیا ہے وہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ علیہ آفتاب ہدایت ہیں اور یہ محض فلسفہ یا لفاظی نہیں ہے بلکہ امت محمدیہ میں کروڑوں ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کی اتباع خلوص نیت اور اخلاص سے کر کے آپ کے نور سے روشنی حاصل کی اور اپنے آپ کو منور کیا اور تمام نعمتوں کو پایا۔پس اے میرے بچو! ابھی سے یہ عزم کرو کہ تم روحانی ترقی کے ان دروازوں سے داخل ہو کر جو خدا نے اسلام کے ذریعہ کھولے ہیں محمد ﷺ کے نور سے منور ہو گے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے ہو گے۔خدا کرے کہ آپ کے لئے بھی یہی مقدر ہو اور ہمارے لئے بھی یہی مقدر ہو“۔(آمین) (بحوالہ ماہنامہ خالد جنوری ۸۰ صفحه ۱۱ تا ۲۰)