مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 503 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 503

503 فرموده ۱۹۷۹ء د و مشعل راه جلد دوم دد پڑھیں گے آپ کے سامنے آجائیں گی۔محمد کی کامل اتباع اسلام کا دوسرا سبق جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیا۔اس زمانے میں دنیا بھول گئی تھی وہ یہ کہ خدا کا پیارا اگر حاصل کرنا ہو تو محمد ﷺ کی کامل اتباع کرنی پڑے گی۔اور کامل اتباع کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ پیار کرنا پڑے گا محمد ﷺ سے۔بغیر حقیقی پیار کے انسان اتباع نہیں کیا کرتا اور اس کا اعلان خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ کہہ کے کیا کہ:۔قل ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله (ال عمران: ۳۲) قیامت تک کے انسان کو کہہ دواے محمد (ﷺ) کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرتے ہو۔حقیقی پیار۔اور چاہتے ہو کہ خدا بھی تم سے پیار کرے تو خدا کے پیار کو حاصل کرنے کا طریق اور خدا سے پیار کے اظہار کرنے کا طریق یہ ہے (اتبعونی) کہ محمد ﷺ کی کامل اتباع کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔یحببکم اللہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو تم حاصل کر لو گے۔محمد ی ﷺ کی عظمت اور آپ کے جلال اور آپ کے مقام کو پہچانا اور ہر وقت اس عظمت و جلال کو سامنے رکھ کر آپ پر درود بھیجتے رہنا۔یہ ایک احمدی مسلمان کا بنیادی فرض ہے۔یہ دوسرا سبق ہے جو ہمیں سکھایا گیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔میں صرف ایک چھوٹا سا حوالہ اس وقت آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں:- میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار دروداور سلام اس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہا ء معلوم نہیں ہوسکتا اواس کی تاثیر قدسی کا اندازہ انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے۔۔۔اس کے مرتبہ کوشناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین اور آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جوسر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار اور افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کی گیا ہے جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتاوہ محروم از لی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کا فرنعمت ہوں