مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 495
495 فرموده ۱۹۷۸ء د و مشعل راه جلد دوم دو انسان نے اسے صرف ” پھوریا ہے اور فخر کرنے لگ گیا ہے۔ابھی تو اس کے پرے چھ اور آسمان باقی ہیں۔پھر ہم اس خدا پر ایمان لاتے ہیں جو اپنے پیارے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے پیارے بندے اس کی راہ میں جان دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔آنحضرت محسنِ اعظم اسی طرح ہم اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ محمد رسول اللہ نے دنیا کے حسن اعظم ہیں۔آپ انسانیت کے محسن ہیں اس لئے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے آپ نے آدم پر بھی احسان کیا۔قرآن کریم کی شریعت میں سے تمدن کا ایک حصہ اُن کو دیا گیا۔پھر اس سلسلہ میں حضرت نوح علیہ السلام آگئے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام آگئے۔علی ہذا القیاس ایک لاکھ ہیں یا چوبیس ہزار انبیاء گزرے ہیں اور ان میں پتہ نہیں کتنے بی ایسے بھی تھے جن پر شریعتیں نازل ہوئیں مگر ان میں سے اکثر شریعتوں کو خدا کی حکمت کا ملہ کے ماتحت یا در رکھنے کی ضروت نہیں سمجھی گئی کیونکہ جس انسان کامل کے لئے خدا نے دنیا پیدا کی تھی وہ مبعوث ہو گیا۔قرآن کریم انسان کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔یہ بڑی عجیب کتاب ہے علوم سے بھری ہوئی اور برکات سے معمور۔غرض ہمارا یہ ایمان اور پختہ عقیدہ ہے کہ حضرت نبی کریم ملا فضل الرسل ہیں۔آپ سب سے بڑے رسول ہیں۔خدا تعالیٰ کے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جتنا پیار آنحضرت ام سے کیا ہے اتنا پیار کسی اور نبی اور انسان سے نہیں کیا۔آپ نفر رسل ہیں۔آدم سے لے کر سب انبیاء کے بھی آپ محسن ہیں۔آپ کا وجود آدم سے لے کر قیامت تک کے ہر انسان کے لئے مجسم احسان ہے۔آج یورپ بھی آپ کے حسن و احسان کا محتاج ہے۔اہل یورپ کے دل میں آہستہ آہستہ یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ محمد رسول اللہ مال اللہ کے فیض سے مستفیض ہو کر لوگ آئیں اور ان کے مسائل حل کریں اور انشاء اللہ العزیز احباب جماعت وہاں جائیں گے اپنی روحانی قوتوں کے ساتھ اور ان کے مسائل کو بھی حل کریں گے۔پس ہم محمد رسول اللہ علیہ کی عظمت شان پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور ہم دل سے یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله یہ ایک صداقت اور حقیقت ہے کہ جس نے خدا کا پیار حاصل کرنا ہواسے محمد ﷺ کی اتباع کرنی پڑے گی۔آپ کو چھوڑ کر کوئی بلند روحانی رتبہ تو کیا کوئی شخص خدا کا عام پیار بھی حاصل نہیں کر سکتا۔آپ خدا تعالیٰ کے اتنے پیارے اور محبوب ہیں کہ آپ کے مقابلے پر کھڑے ہونے کی کوئی جرات نہیں کر سکتا سوائے شیطان لعین کے۔قرآن کریم پرایمان پھر قرآن کریم پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں۔اس کی صداقت کے متعلق کچھ باتیں میں نے بیان کر دی ہیں۔