مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 471
471 فرموده ۱۹۷۸ء دد دو مشعل راه جلد د دوم مطلب یہ تھا کہ ہم گندگی میں دھنستے چلے جارہے ہیں تم نے ہماری پر واہ ہی نہیں کی کہ ہم کس گندگی کے اندر پھنسے ہوئے ہیں تم لوگوں نے ہم سے بے اعتنائی کی حالانکہ اتنی اچھی تعلیم تمہارے پاس ہے۔ہر احمدی کا فرض۔۔۔حضور کی کتب پڑھے میں اپنے متعلق ہی بات کروں گا ہمیں دوسروں سے کیا۔ہمارا یہ ایمان ہے کہ یہ حسین تعلیم ہم ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر قرآنی ( جو آپ نے تفصیلی اور اصولی طور پر بیان کی ) کے بغیر بتا ہی نہیں سکتے۔اس واسطے ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ اگر پڑھنا جانتا ہے تو اسے پڑھے اور اگر نہیں جانتا تو سنے۔بعض دفعہ حضور ایک فقرہ لکھتے ہیں اور آپ ساری عمر بھی گزار دیں تو اس فقرے کا مضمون ختم نہیں ہوگا۔ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک کتاب کا ایک فقرہ اٹھایا اور پانچ سات خطبات جمعہ اس ایک فقرے پر دے دیئے۔تنا مضمون اس کے اندر بھرا ہوا تھا۔ایک اور فقرہ ہے اگر آپ سارے جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ساری عمر اس پر تحقیق کرتے رہیں تب بھی اس کے معنی ختم نہیں ہوں گے۔مگر میں آج بتاؤں گا نہیں۔عملی نمونہ دکھائیں جب ہم ان کے سامنے یہ تعلیم پیش کرتے ہیں تو وہ آرام سے کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں عملی نمونہ دکھاؤ۔اس لئے ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم ان کو اپنا عملی نمونہ دکھائیں عملی نمونے کے لئے میں مختصر دو تین باتیں کہوں گا۔ایک تو یہ ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے امن کے ، انصاف کے حقوق کی ادائیگی کے، پیار کے، بے لوث خدمت کے، خیر خواہی کے اور کسی کو دکھ پہنچانے کے لحاظ سے یہ سلامتی کا مذہب ہے۔خدا تعالیٰ نے اسلام کہا ہے۔میں نے بار بار آپ سے کہا اور بیعت میں بھی یہ فقرہ زائد کر دیا کہ میں کسی کو دکھ نہیں پہنچاؤں گا۔پس یہ اسلام ہے اور اس کے مقابلے میں ”فساؤ ہے۔جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یونہی رنجش پیدا کرنا ادھر کی ادھر لگانا ، چغلیاں کرنا، غیبت کرنا وغیرہ۔جن چیزوں سے اسلام نے روکا ہے بعض لوگ ان کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس طرح فساد پیدا کرتے ہیں۔قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ملک میں فساد پیدا کرنے کے لئے دوڑتے پھرتے ہیں کیا ان کو پتہ نہیں ؟ کہ خدا تعالیٰ فساد سے پیار نہیں کرتا بلکہ انسان فساد پیدا کر کے خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آتا ہے۔جماعت احمدیہ کی نوے سالہ زندگی یہ ہے اپنے اور دوسرے اچھی طرح سن لیں کہ جماعت احمدیہ نے کبھی بھی بحیثیت جماعت نہ کسی سٹرائیک میں حصہ لیا ہے اور نہ فساد میں ۱۹۷۴ ء میں جماعت نے بڑی اجتماعی قربانی کی لیکن میں انفرادی مثال دے دیتا ہوں۔۱۹۷۴ ء کے فسادات میں بھٹو صاحب کی حکومت میں بعض ایسے لوگ بھی مار دیئے گئے جن کے پاس بندوق پڑی ہوئی تھی لیکن انہوں نے بندوق نہیں چلائی اور خود مر گئے۔جو شخص اپنی حفاظت پر قادر نہیں ہے اور دلیری سے مرجاتا ہے وہ بھی بڑا دلیر