مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 461 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 461

461 فرمودہ ۱۹۷۷ ء د و مشعل راه جلد دوم دد میں نہ ڈالے بس پتیلے کے اندر رکھے اور روٹیاں پکانا بھی شروع نہ کرے۔وہ دوڑا دوڑا گھر گیا اور بیوی سے کہا۔دیکھنا سالن کو ہاتھ نہ لگانا اور آٹا بھی اسی طرح رہنے دو آنحضرت یہ تشریف لا رہے ہیں۔وہ اپنے دل میں کہنے لگا پتہ نہیں کیا حال ہوگا آنحضرت ﷺ نے سب میں اعلان کر دیا کہ آجاؤ کھانا کھا لو۔خیر آپ تشریف لائے اور آپ نے سالن پر بھی اور آٹے پر بھی دعا کی اور پھر اپنے ہاتھ سے تقسیم کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ سالن بھی کافی ہو گیا اور روٹیاں بھی کافی ہوگئیں۔ویسے یہ کھانا کافی نہیں ہوسکتا تھا۔یہ خدا تعالیٰ کی شان ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک الله نشان دکھایا۔پس میں بتا یہ رہا ہوں کہ جس شخص نے محمد اللہ سے فیض حاصل کیا وہ اس کو ایک کنجوس آدمی کی طرح اپنے تک محدود کیسے رکھ سکتا ہے۔جو آدمی اس عظیم نفی کی سخاوت سے سیراب ہوا ہو جس کی سخاوت کا انسان تصور بھی نہیں صلى الله۔کر سکتا ( ع ) اور اس کے اسوہ حسنہ پر چل کر اس نے کچھ حاصل کیا ہو وہ تو اس فیض کو آگے بانٹے گا۔جب وہ بانٹے گا تو نائب کے طور پر بانٹے گا وہ اپنی طرف سے تو نہیں بانٹے گا اور اس حد تک وہ خلیفہ بن گیا۔تو گویا خلفاء کی لاکھوں کی فوج ہے جو محمدعا اللہ سے فیض حاصل کر کے آگے پہنچاتے ہیں۔دوسرا وعده آیت استخلاف میں دوسرا وعدہ یہ ہے ، جو بزرگ ہیں وہ بھی جیسا کہ میں نے بتایا ہے گنتی کے تو نہیں۔مثلاً کہا گیا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے ساتھ اتنے بزرگ اولیاء اللہ تھے کہ جن کا کوئی شمار نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں ان کے دین کی تجدید کیلئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی ہوتے تھے۔امت محمدیہ تو بڑی وسعتوں والی امت ہے اور یہ تو ساری دنیا میں پھیلنے والی ہے اس میں تو سینکڑوں کے مقابلے میں ہزاروں ہوں گے مگر یہ خلفاء ہیں۔خلفاء کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ جس ” طرح كما استخلف الذين من قبلھم میں ” کہا مشابہت کیلئے آیا ہے یعنی جس طرح امت موسویہ میں ایک وقت میں چار چار سو نبی ہوتے تھے اسی طرح امت محمدیہ میں چار چار سو سے نہیں زیادہ خلفائے محمد ہوں گے جو دین کی خدمت کرنے والے ہوں گے اور چونکہ انہوں نے تجدید کرنی ہے اس لئے وہ مجدد بھی ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ہر نبی مجدد ہے لیکن ہر مجدد نبی نہیں۔تھوڑی سی تجدید دین کرنے کے لحاظ سے امت کی اکثریت بطور خلیفہ محمد یا اللہ مجد بھی ہے وہ تجدید دین کرتے ہیں لیکن نبی تو نہیں بن گئے۔ہر خلیفہ مجدد ہوتا ہے اس وقت جماعت احمدیہ میں تیسرے خلیفہ کا زمانہ گزررہا ہے۔چنانچہ مجھ سے پہلے ہر دو خلفاء کا اور میرا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر خلیفہ مجدد بھی ہوتا ہے لیکن ہر مجد دخلیفہ نہیں ہوتا کیونکہ خلافت ایک بہت اونچا مقام ہے