مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 453 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 453

453 فرمودہ ۱۹۷۷ ء دومشعل راه جلد دوم گے۔چنانچہ اس زمانہ میں ان لوگوں نے بیسیوں سینکڑوں دلائل اکٹھے کر دئے اس بیان کی صداقت پر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق دیا تھا کہ وہ صلیب پر نہیں مرے۔صلیب پر سے زندہ اترے۔زندہ رہے۔بنی اسرائیل کی جو کھوئی ہوئی بھیڑیں تھیں یعنی جو مختلف قبائل ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لئے وہ آئے تھے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اب حالت یہ ہے کہ اسی مذاکرہ کے سلسلہ میں جو اگلے سال گرمیوں میں ہو گا کئی ایک عیسائی پادریوں نے تحقیق کی ہے اور کتابیں لکھی ہیں۔ایک پادری کو لکھا کہ شامل ہو تو اس نے کہا ہاں کوشش کروں گا کہ ضرور آؤں اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ جب سے میں نے اپنی تحقیق کی کتاب شائع کی ہے کہ واقعی حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے اور کشمیر گئے اور وہاں فوت ہوئے ہیں تو لوگوں نے مجھے احمدی کہنا شروع کر دیا ہے۔وہ کوئی یورپین یا امریکن عیسائی ہے۔غرض روحانی اور اخلاقی دنیا میں ایک زبردست انقلاب آنا شروع ہو گیا ہے۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ غلبہ اسلام کے لئے اور بنی نوع انسان کے دل محمد مال اللہ کے لئے جیتنے کی خاطر جو منصوبے ہیں جب تک ان منصوبوں میں پچھہتی نہ ہو اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔پھر تو یہ ہوگا کہ کوئی منصوبہ دائیں طرف کھینچ رہا ہوگا اور کوئی بائیں طرف کھینچ رہا ہوگا اور نوع انسانی کو وہ فائدہ نہیں ہوگا جوخدا تعالیٰ کی بشارتوں اور اس کے احکام کے مطابق ہمارے مدنظر ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے شیطان خاموش تو نہیں بیٹھ سکتا وہ تو وسوسہ ڈالتا ہے۔اس کا تو کام ہی یہ ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کام کے لئے اسے اجازت دی ہے۔جس طرح اسلام کے حق میں انقلاب عظیم شدت اختیار کر رہا ہے۔اسی طرح شیطان کے حملے میں بھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ایک شدت پیدا ہورہی ہے اور شیطان کے حملے بنیادی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک جماعت مومنین میں اندرونی طور پر تفرقہ اور بداعتقادات پیدا کرنے کی کوشش اور دوسرے مخالفین اسلام کو اکسانا کہ شاباش آگے بڑھو تم ہی جیتو گے۔اور جب شیطان ہار جاتا ہے تو آرام سے کہہ دیتا ہے میں تو تم سے دھوکا کر رہا تھا۔جھوٹے وعدے دے رہا تھا۔ہارنے کے بعد وہ یہ زبان استعمال کرتا ہے لیکن شکست سے پہلے وہ یہ کہہ رہا ہوتا ہے شاباش تم نے ہی جیتنا ہے تیز ہو جاؤ اسلام کے مٹانے کے دن آگئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔میں کہتا ہوں اسلام کے مٹانے کے دن نہیں آئے۔اسلام کے غلبہ کے دن آگئے ہیں۔انشاء اللہ میں آپ کو شیطانی وسوسے کی ایک مثال دیتا ہوں۔حد بث مجددین اور اس کی عرفان انگیز تشریح قرآن کریم نے کہا ہے کہ گاہے گاہے سال میں ایک آدھ بار منافقین کو جو شیطان کا آلہ کار بن جاتے ہیں جھنجھوڑتے رہنا چاہیئے تا کہ وہ اپنے مقام کو پہنچا نہیں اور حدیث شریف میں یہ جو آیا ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ ہوں گے جو تجدید دین کا کام کریں گے اس کو لے کر اور باقی ہر چیز کو پس پشت ڈال کر انہوں نے بعض لوگوں