مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 437
437 فرمودہ ۱۹۷۷ ء د و مشعل راه جلد دوم وہ ظالم کہ رہے تھے دنیا کے Proletariat کا ایک حصہ ان کے سپر د کر دیا۔پس وہ جو ساری دنیا کو اکٹھا کر کے ایک انقلاب بر پا کرنے کا منصوبہ تھا وہ تو زون کی اس تقسیم کے نتیجہ میں دھڑام سے زمین پر گر گیا اور کامیاب نہیں ہوا۔عظیم انقلاب نبی اکرم ﷺ کے ذریعہ سے ایک عظیم انقلاب دنیوی بھی اور روحانی بھی باہوا اور کہا گیا کہ یہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا چلا جائے گا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ ساری دنیا کے انسانوں کو صرف Proletariat کو نہیں بلکہ مظلوم کو بھی اور ظالم کو بھی اپنے احاطہ میں لے لے گا۔مظلوم کو مظلومیت سے نجات دلائے گا اور ظالم کو اس کے اندر جو ظلم کرنے کی خرابی اور بدی پائی جاتی ہے اس سے نجات دلائے گا۔اور ہر دوخدا تعالیٰ کی رحمت کے سائے تلے اکٹھے ہو جائیں گے۔بتایا یہ گیا کہ یہ عظیم انقلاب جو محمد ﷺ کے ذریعہ شروع ہوا ہے آخری زمانہ کے آنے تک ( یعنی جس کو آخری زمانہ کہا گیا ہے اس کی ابتدا ء تک) تو اس کی شکل یہ بنے گی کہ مد و جزر ہوگا۔کبھی دنیا کے ایک حصہ میں نیکی کا اور تقویٰ کا اور انصاف اور عدل کا اور پیار کا اور بھائی چارے کا اور خیر خواہی کا انقلاب بپا ہوگا۔اور دوسری طرف ایک تنزل شروع ہو جائے گا۔لیکن مجموعی طور پر آسمانوں کی طرف بلند ہوتا ہوا ایک گراف بنے گا۔پھر خیر القرون کی تین صدیوں کے بعد یعنی محمد رسول اللہ علیہ کی صدی اور بعد کی دوصدیاں گزرنے کے بعد پھر ایک تنزل کا زمانہ آئے گا لیکن وہ ناکامی کا زمانہ نہیں ہوگا یعنی وہ زمانہ ایسا نہیں ہوگا کہ ہم کہیں کہ انقلاب نا کام ہوگیا بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ انقلاب کے اندر ایک سستی پیدا ہوگئی اور جس تیزی کے ساتھ وہ آسمانی رفعتوں کی طرف بڑھ رہا تھا وہ تیزی باقی نہیں رہی اور اس کے ایک حصہ میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوگئیں۔بہت سے بد اثرات آگئے۔بہت سی بدعات آ گئیں بہت سے ظلم داخل ہو گئے لیکن ایک حصہ ایسا بھی رہا جس کو محاورے میں Hard Core (ہارڈ کور ) کہا جاتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے ایسے فدائی اور جاں نثار کہ جن کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ پر قربان اور اس کی تعلیم اور ہدایت کی اشاعت کیلئے وقف تھا۔ایسے لوگ بھی موجود تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ جو تنزل کا زمانہ تھا جس کو نبی اکرم ﷺ نے فیج اعوج کا زمانہ قراردیا ہے۔جس میں ظلمات میں پھر ایک حرکت پیدا ہوئی، اور انقلاب کی رفتار میں ، اس کی حرکت میں ایک کمی اور سستی پیدا ہوگئی اس میں بھی خدا تعالیٰ کے مقربین دریائے عظیم کی طرح تھے۔لیکن یہ نہیں ہے کہ اس کی خبر نہ دی گئی ہو بلکہ پہلے سے خبر دی گئی تھی اور یہ بتایا گیا تھا کہ پہلی تین صدیوں میں یہ انقلاب عظیم ترقی کرے گا۔پھر اس میں ستی پیدا ہوگی۔اور پھر ایک ہزار سال تک اس میں آہستہ آہستہ ستی بڑھتی چلی جائے گی۔لیکن اس وقت بھی انقلابی گروہ اپنے مقام کو پہنچانتا ہوگا اور پختگی کے ساتھ اپنے مقام پر کھڑا ہوگا اور پھر ایک حرکت آسمانوں کی طرف شروع ہوگی اور پھر آخری جنگ ہوگی نیکی کی بدی کے ساتھ اور صلاحیت کی شیطانی طاقتوں کے ساتھ اور نور کی ظلمت کے ساتھ اور پھر وہ بڑھتی