مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 41
41 فرمودہ ۱۹۶۷ء د و مشعل راه جلد دوم دد بلکہ وہ دیگر انبیاء کی طرح اپنا کام ختم کر کے اسی دنیا میں وفات پاگئے ہیں اور اسی زمین میں دفن ہوئے ہیں اور قرآن کریم کی کسی آیت سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں بلکہ اس کے مقابل قرآن کریم کی تمیں آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ یہیں اس زمین پر فوت ہوئے ہیں پس اس کے ذہن میں یہ مضمون تو ضرور ہو گا لیکن اگر وہ کسی ایسے شخص سے بات کرے گا جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں تو اسے بڑی مشکل پیش آئے گی۔گو اس کے ذہن میں سب کچھ ہوگا لیکن وہ اسے بیان نہیں کر سکے گا۔ہاں اگر اس کے پاس نوٹ بک ہوگی تو وہ اسے نکال کر ایسے آدمی کو وہ تمیں آیات بتا سکتا ہے جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔آپ میں سے ہر ایک نے اسلام کا سپاہی بننا ہے آپ میں سے ہر ایک نے اسلام کا سپاہی بنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم انتہائی کوشش کریں گے کہ آپ کو اسلام کا سپاہی بنادیں اور ہم اپنے رب سے یہ امید رکھتے ہیں کہ آپ میں سے اکثر خدا تعالیٰ کی فوج کے سپاہی بن جائیں گے لیکن اس کے لئے نہیں بھی بڑی جد و جہد کرنی پڑے گی اور آپ کو بھی بڑی کوشش کرنی پڑے گی۔صرف احمدیت کی طرف منسوب ہونا یا کسی احمدی باپ کے ہاں پیدا ہوجانا کافی نہیں۔نبی کریم ﷺ نے دنیا کے سامنے قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب پیش کی۔اور آپ کے صحابہ نے اور تابعین نے اور پھر ان کے بعد آنے والی نسل نے (جس درجہ پر آپ لوگ ہیں جنہیں تبع تابعین کہتے ہیں قرآن کریم کی عظمت کو جانا اور پہچانا۔انہوں نے اس نور سے وافر حصہ لیا اور اس نور کو دنیا میں پھیلایا اور ایک انقلاب عظیم پیدا کر دیا اس وقت دشمن نے اسلام کے مقابلہ میں تلوار نکالی تھی اور اللہ تعالیٰ نے معجزانہ رنگ میں اس تلوار کو توڑ دیا تھا اور اسلام کو غالب کر دیا تھا آج دشمن منہ کی پھونکوں سے اسلام کو مٹانا چاہتا ہے اور جو لوگ اس وقت ہمارے مقابلے کے لئے ہمارے سامنے کھڑے ہیں ان کا مقابلہ ہم نے دلائل اور معجزات کے ساتھ کرنا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے جب دنیا کے سامنے قرآن کریم کو پیش فرمایا تو جن نسلوں نے ( زیادہ تو وہ پہلی تین نسلیں ہی تھیں ) قرآن کریم کی عظمت اور شان اور اس کے مقام کو پہچانا تھاوہ قرآن کریم کی برکت سے دنیا پر غالب آئیں اور کوئی میدان ایسا نہیں تھا جس میں وہ مغلوب ہوئی ہوں لیکن اس کے بعد قرآن کریم کو اسلام کے ہر فرقہ نے چھوڑ دیا اور اس کا بڑا زبردست ثبوت یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے اسلام کو دنیا کے دوسرے تمام مذاہب پر غالب کرنے اور قرآن کریم کی برکتوں کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو اسلام کا کوئی فرقہ ایسا نہیں تھا جو پورے کا پورا آپ پر ایمان لایا ہو۔اور اس نے آپ کو پہچانا ہو حالانکہ آپ قرآن کریم ہی کی طرف تمام دنیا کو بلا رہے تھے اگر ایک فرقہ بھی سارے کا سارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قرآن کریم کا علم رکھتا اور اس کے نور سے منور ہوتا تو اس کے تمام افراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے