مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 428
و مشعل راه جلد دوم انسانی کی خدمت اور بھلائی کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے فرموده ۱۹۷۶ء 428 بہر حال امت مسلمہ کے ہر فرد کو خواہ اس کا تعلق جب میں بول رہا ہوں یعنی حال سے ہو یا ماضی سے ہو اور یا مستقبل سے ہو یعنی آئندہ آنے والی نسلوں سے ہو۔ہر شخص کو مخاطب کر کے یہ کہا کسنتم خير امة اخرجت لسلناس تم بہترین امت ہو اس لئے کہ نوع انسانی کی خدمت اور بھلائی کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔غرض نہ صرف یہ کہ انسان انسان کا خادم بھی ہے بلکہ انسان ، انسان کا سب سے بڑا خادم ہے اور انسانوں ہی سے حضرت نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لاتے ہیں اور اسلام کی سچائی اور اسکی حقانیت کے قائل ہیں اور قرآن کریم کی عظمت کے آشنا ہیں اور محمد رسول اللہ ہے کے عشق کا دعوی کرتے ہیں، وہ بنی نوع انسان کے سب سے زیادہ خادم ہونے چاہئیں۔پس آج کی دنیا میں ہمارے لئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے قرآن کریم کی رو سے ہر احمدی جو اپنے آپ کو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے ، اس کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمام بنی نوع انسان کی اس رنگ میں خدمت کرے کہ اس میں ان کی بھلائی پوشیدہ ہو اور یہ کوشش کرے کہ جس طرح اس کے دل اور اس کی روح نے اپنے پیدا کرنے والے رب کو پہچانا اور اس کے پیار کو حاصل کیا اسی طرح اس کا ہر بھائی اور اسکی ہر بہن خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات سے واقف ہو۔خدا تعالیٰ کی صفات کا عرفان اور اس کی معرفت حاصل ہو۔خدا تعالیٰ کی اس معرفت کے نتیجہ میں اسلامی تعلیم کی رو سے جوذمہ داریاں انسان خود محسوس کرتا ہے، ان کو وہ نباہنے والا اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والا ہو۔پس ہماری زندگی کا مقصد نوع انسانی کی وہ خدمت ہے جس کی طرف اسلام ہمیں بلاتا ہے۔ہماری تربیت کی یہی غرض ہے۔خواہ اس کا ذریعہ تربیتی کلاسز ہوں۔جمعہ کے خطبات ہوں ، جماعت کی دیگر اجتماعی سرگرمیاں ہوں مثلاً مختلف جلسے ہوتے ہیں۔مختلف اجتماعات ہوتے ہیں یا مختلف تنظیمی کاروائیاں ہوتی ہیں اور وہ سب اس غرض سے ہوتی ہیں کہ ہمارے احمدی بچے جن کو ہم تنظیمی لحاظ سے اطفال الاحمدیہ کہتے ہیں یا ہمارے احمدی نوجوان جن کو ہم خدام الاحمدیہ کہتے ہیں۔یا وہ بڑی عمر کے احمدی دوست جن کو ہم انصار اللہ کہتے ہیں اور ہماری احمدی بزرگ مائیں اور ہماری بہنیں اور دوسری مستورات جو مذہبی رشتہ کے لحاظ سے سب ہماری بہنیں ہیں۔غرض ان سب کی اس رنگ میں تربیت کرنا کہ وہ اس خدمت کو بجالائیں جس کی طرف قرآن کریم ہمیں بلاتا ہے مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم سب اپنے دل میں اس خدمت کے کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہوں اور اسکے مطابق ذہنی طور پر ترقی بھی کر چکے ہوں۔اور عملاً ان کو شعور بھی ہو یعنی عمل کرنے کے اہل ہوں اور نوع انسانی کی خدمت بھی کر سکیں۔اس خدمت کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔اسلام کی حقیقت کو جاننا اور پہچاننا۔چنانچہ یہ تربیتی کلاس ایک حد تک اسی پہلو کو اجاگر کرے گی۔کیونکہ دو ہفتے کے اس مختصر سے کورس میں سارا اسلام تو نہیں سکھایا جا سکتا۔ہزاروں چیز میں ہیں جن کے مجموعہ کا نام اسلام ہے۔اگر ایک ایک چیز کو ہم اٹھا کر پرے رکھتے جائیں اور