مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 427
427 فرموده ۱۹۷۶ء د و مشعل راه جلد دوم انسان کی تباہی کے سامان پیدا کر۔یہ بڑی احمقانہ بات ہے لیکن بہر حال انسان ہی سے حماقتیں سرزد ہوتی ہیں اور اس سے ایک بڑی حماقت یہ سرزد ہوئی کہ خدا نے ایٹم کو اس کا خادم بنایا تھا لیکن بجائے اس کے کہ وہ یہ کہتا کہ انسان کی خدمت کے لئے تو کوشاں رہ اور تو انسان کی ترقی کے لئے سامان پیدا کر۔اس نے اپنے خادم کو کہا کہ وہ انسان کو ہلاک کرے۔پس میں اس وقت بتا یہ رہا ہوں کہ ہر وہ چیز جو خدمت پر مامور ہے، اسے بتایا جاتا ہے کہ اس نے انسان کی کیا خدمت کرنی ہے اور پھر اس کے مطابق اس کی تربیت کی جاتی ہے مثلا گھوڑا ہے اور یہ بھی کائنات کی ایک چیز ہے اور اسے بھی انسان کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اب یہ نہیں ہوسکتا کہ ہر جنگی گھوڑا پہلے دن سے انسان کی خدمت کرنے لگ گیا ہو۔گو اس وقت بھی بعض علاقوں میں جنگلی گھوڑے پائے جاتے ہیں۔لیکن شروع میں تو کہتے ہیں کہ جنگلی گھوڑے ہی تھے جن کو پھر انسان نے پکڑ کر پالا۔پھر آگے کئی لحاظ سے ان کی تربیت کی مگر یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور ایک علیحدہ مضمون ہے جس میں جانے کی اس وقت ضرورت نہیں ہے۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ جہاں تک گھوڑے سے خدمت لینے کا تعلق ہے گھوڑے جنگل سے بھاگے ہوئے انسان کی جھونپڑیوں تک نہیں پہنچے اور اسے یہ نہیں کہا کہ اے انسان! تو ہم سے خدمت لے۔شروع میں تو انسان جھونپڑیوں میں رہتا تھا یا اس سے بھی پہلے غاروں میں رہتا تھا۔ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا۔قرآن کریم نے جہاں یہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے اس کا ئنات کو پیدا کیا ہے وہاں یہ بھی فرمایا لیس للانسان الا ما سعى انسان ان سے حقیقی خدمت لینے کی کوشش کرے گا اور وہ کوشش صحیح راہ پر ہوگی تو وہ تمہاری اپنی ہی خدمت کریں گے جتنی خدمت ان سے لو گے۔اسی لئے گھوڑے کو سدھانا پڑتا ہے۔انگریزی میں کہتے ہیں بریک (Break) کرنا لیکن ہم کہتے ہیں گھوڑے کو سدھانا اور یہی زیادہ اچھا لفظ ہے۔انگریز کہتا ہے گھوڑے کی عادتیں تو ڑنی پڑتی ہیں جب کہ ہم کہتے ہیں انسان گھوڑے کو اپنے ساتھ مانوس کرتا ہے اور اسے آہستہ آہستہ یہ سکھاتا ہے کہ وہ اس کا کہنا مانے اور ہلکے سے اشارہ پر دائیں مڑ جائے یا بائیں طرف چلنا شروع کر دے یا ٹھہر جائے۔یا اگر کھڑا ہے تو دوڑنے لگ جائے۔غرض ایک نامعلوم سا اشارہ ہوتا ہے جسے گھوڑا سمجھنے لگ جاتا ہے لیکن یہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب وہ تربیت پا کر اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ انسان کے اشاروں کو سمجھنے لگ جاتا ہے۔اسی طرح ہر چیز جس سے کوئی خدمت لینی ہوتی ہے، اس کو بتانا پڑتا ہے اور اس کے مطابق اس کی تربیت کرنی پڑتی ہے اور اس معاملہ میں کوئی انسان مستشنیٰ نہیں۔انسانوں میں سے خصوصاً ہمارے پیارے آقا محمد ﷺ کی امت جسے امت مسلمہ کہتے ہیں۔اس کے افراد بھی مستثنی نہیں کیونکہ قرآن کریم میں اس امت کے افراد کو جو پہلے دن سے یعنی وہ پہلا شخص جو محمد اللہ کے ہاتھ پر ایمان لایا اور اسلام لایا۔اس پہلے شخص سے لے کر قیامت تک، اس آخری شخص تک جو اسلام کے اندر رہے گا اور قیامت آئے گی اور دنیا مٹ جائے گی۔یہ کیسے ہوگا اور کب ہو گا۔اس کے ساتھ ہمیں تعلق نہیں۔اور نہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ہمیں آج کی دنیا کے متعلق سوچنا اور مجھنا ہے اس کے مطابق اپنے آپ کو تربیت دینا ہے۔بنی نوع