مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 40
د دمشعل قل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۶۷ء 40 یہاں ایک انتظام کے ماتحت نوٹ بکیں تیار ہونی چاہئیں تقاریر جو یہاں کی جائیں ان کے نوٹ طبع کرا کے یا سائیکلوٹائل کرا کے کلاس میں شامل ہونے والے خدام کو دئے جائیں اور خدام انہیں اپنے پاس محفوظ رکھیں۔انہیں پڑھیں۔یاد رکھیں اور اپنی مجالس میں واپس جا کر وہاں کے دوسرے خدام کو یاد کرائیں غرض آپ نو جوانوں کا فرض ہے کہ یہاں آئیں اور دین سیکھیں اور پھر جو کچھ سیکھیں اسے اپنی ذات تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی مجلس میں واپس جا کر دوسرے دوستوں کو بھی بتائیں کہ آپ نے یہاں آ کر کیا کچھ سیکھا ہے۔اپنی مجالس میں واپس جا کر وہاں ایک کلاس جاری کر کے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک روزانہ ایک ماہ یا دو ماہ تک روزانہ دوسرے خدام کو پڑھائیں اور نہ اس بات کا کوئی فائدہ نہیں کہ اتنی بڑی جماعت میں سے ۸۰ یا ۱۵۰ طالب علم یہاں آئیں اور تعلیم حاصل کریں اور دوسرے سب نو جوانوں کو اس سے محروم رکھا جائے۔یہ دوسروں پر بہت بڑا ظلم ہے اور اس ظلم میں آپ بھی شریک ہیں کیونکہ آپ یہاں آتے ہیں۔کلاس میں شامل ہوتے ہیں لیکن آپ نوٹ نہیں لیتے اور اپنے آپ کو اس قابل نہیں بناتے کہ اپنے دوسرے بھائیوں کے سامنے ان دلائل کو رکھیں اور ان کو آیات قرآنیہ سکھائیں اور اس طرح اپنے آپ کو بھی اور دوسرے نوجوان بھائیوں کو بھی احمدیت کے عالم بنانے کی کوشش کریں۔دوسری کلاس جو ہر سال جولائی میں ہوتی ہے اس میں بھی نقص تھا گو اس میں شامل ہونے والے بڑی عمر کے اور زیادہ تجربہ کار ہوتے ہیں اور وہ ساتھ ساتھ تقاریر کے نوٹ بھی لیتے ہیں (گوان میں سے بعض ناقص نوٹ لیتے ہیں لیکن بعض ان میں سے خاصے نوٹ لے لیتے ہیں) لیکن وہ پورے نوٹ نہیں لے سکتے خصوصاً جو عام لیکچر ہیں ان میں اگر نوٹ لینے کی طرف توجہ ہو تو ان کی بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آسکتیں اس لئے تجویز ہے اور اس کلاس میں جو آئندہ جولائی میں منعقد ہونے والی ہے اس پر عمل ہوگا کہ اس میں شامل ہونے والوں کو کاپیاں تیار کر کے دی جائیں۔عام طور پر جو دوست اس کلاس میں باہر سے آکر شامل ہوتے ہیں اور ان میں سے اکثر پانچ دس آنے خرچ کر سکتے ہیں اس لئے یہ کا پیاں ان کے پاس فروخت کی جائیں لیکن بعض ایسے افراد بھی ہو سکتے ہیں جو غریب ہوں اور اتنی رقم خرچ کرنے کے بھی قابل نہ ہوں ان کو یہ کا پیاں مفت دی جائیں اور ان کا پیوں میں ان لیکچروں کے نوٹ ہوں جو یہاں ہوتے ہیں مثلاً یہاں ایک عالم وفات مسیح لیکچر کرتا ہے اور اس لیکچر میں پانچ یا دس آیات قرآنیہ پیش کرتا ہے تو پہلے وہ اس لیکچر کے نوٹ تیار کرے اور وہ نوٹ طبع کر کے یا سائیکلوسٹائل کر کے کلاس میں شامل ہونے والوں کو دئے جائیں اور وہ نوٹ اس سائز کے کاغذ پر ہوں جو اس کاپی میں پورے آ سکیں۔اگر خدام کے پاس اس قسم کی نوٹ بک تیار ہوگی تو ان کے اندر باہر جا کر ایک عالم بن کر کام کرنے کی اہلیت پیدا ہوگی۔چونکہ یہ زمانہ طباعت کا غذ اور قلم کا زمانہ ہے اس لئے عام طور پر انسان حافظہ سے اتنا کام نہیں لے سکتا جتنا وہ نوٹ بک سے لے سکتا ہے جس خادم نے نوٹ بک تیار نہ کی ہو وہ غیروں کے سامنے بات کرنے میں ہچکچاہٹ اور حجاب محسوس کرے گا۔اس کے ذہن میں یہ تو ہوگا کہ قرآن کریم میں ۳۰ آیات ایسی ہیں جن سے یہ امر واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسد عصری کے ساتھ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے