مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 426
دومشعل دوم فرموده ۱۹۷۶ء 426 ۱۱۶ پریل ۱۹۷۶ ء بعدنمازعصر ایوان محمو در بوہ میں سید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی ۲۳ ویں تربیتی کلاس کا افتتاح کرتے ہوئے جو خطاب فرمایا تھا اس کا مکمل متن۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: ہمارے نوجوانوں کی یہ ۱۳ ویں تربیتی کلاس ہے۔اس کلاس میں اس وقت تک شامل ہونے والوں کی تعداد گزشتہ سال سے کم ہے۔باوجود اس کے کہ خدام الاحمدیہ کی مرکزی انتظامیہ کو باہر سے جو اطلاعات موصول ہوئی تھیں، ان کے مطابق پچھلے سال کے مقابلہ میں تعداد زیادہ ہونی چاہئے تھی۔لیکن عملاً یہ تعداد پچھلے سال جیسی نہیں ہے۔اس کی کوئی وجہ ہوگی۔اس وجہ کا ہمیں علم ہونا چاہیئے۔مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کو چاہیئے کہ وہ جائزہ لے کر مجھے رپورٹ کریں کہ کیا وجہ ہے باوجود اطلاع کے باہر سے آنے والے نمائندگان کی تعداد کم ہے۔یہ ایک تربیتی کلاس ہے اور ہر تربیتی کام ایک خاص مقصد کے حصول کے لئے ہوتا ہے۔انسان خود اپنے نفس ہی کو تربیت نہیں دیتا بلکہ قرآن کریم کے اس ارشاد کے مطابق کہ سخر لكم ما فی السموت و ما في الارض جميعاً منه (الجاثیہ: ۱۴۔خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر شے کو انسان کے خادم کے طور پر بنایا گیا ہے اس لئے انسان اپنے ان خدام سے یعنی کائنات کی ہر شے کو بتاتا ہے کہ میں تجھ سے کیا خدمت لینی چاہتا ہوں۔جس طرح گھر کے نوکر کو یا بہتر مثال آج کل کے لحاظ سے یہ ہوگی کہ کسی کارخانے کے مزدور کو مالک کہتا ہے کہ یہ کام کرنا ہے اور وہ اس کے مطابق کام کرتا ہے۔پس اسی طرح انسان بھی کائنات کی ہر شے کو بتا تا ہے یا بتانے کی کوشش کرتا ہے یا اسے یہ بتانا چاہیے کہ میں نے تم سے کیا خدمت لینی ہے۔پس جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے انسان کے بہت سے ایسے خدام ہیں۔جن کا خود انسان کو بھی پتہ نہیں۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے۔اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل ایٹم (باریک ذرہ) جس سے ہم بنے ہیں، انسان کو اس کی طاقت کا پتہ نہیں تھا اس لئے اس نے اپنے کام کے لئے اسے تربیت نہیں دی تھی۔یہ علیحدہ بات ہے کہ جب اسے معلوم ہوا تو اس نے ایٹم سے زیادہ تر جو کام لینا چاہا، وہ اس کی اپنی ہی ہلاکت کا کام تھا۔یہ ایسی ہی حماقت ہے جیسے کوئی آقا اپنے غلام سے کہے کہ مجھے قتل کر دو۔پرانے زمانہ میں بادشاہ ہوا کرتے تھے۔ان کے بہت سے غلام ہوا کرتے تھے۔اب تو غلامی کا زمانہ گزرگیا ہے لیکن اس وقت اگر کوئی بادشاہ کہتا اے فلاں جو میرے غلام ہو۔تم چھرا اٹھاؤ اور میری گردن کاٹ دو۔چنانچہ ایسے ہی انسان نے کیا۔ایٹم کی جو طاقت ہے اس کو معلوم کرنے کے بعد اس کو یعنی اپنے خادم کو یہ حکم دیا کہ اے انسان کے خادم ! تو