مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 418 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 418

دومشعل قل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۴ء 418 بوجھ دیکھتے ہیں اس کے مقابلہ میں ہم خدا تعالیٰ کے وعدے کے مطابق یہ امید رکھتے ہیں کہ جماعت کو اتنی زیادہ توفیق مل جائے گی۔اور جب ہم توفیق دیکھتے ہیں تو جو اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دیتا ہے اور ہماری نظر کے سامنے آتی ہے۔اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسی نسبت کے ساتھ ہم پر زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک منصوبہ بنایا اور وہ منصوبہ ہے اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا۔وہ منصوبہ یہ ہے تمام ملکوں اور ان میں بسنے والے انسانوں کے دل جیت کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دینے کا۔یہ اتنا بڑا ز بر دست منصوبہ ہے کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اور آج پھر کہتا ہوں آپ کے کانوں میں بار بار یہ بات ڈالنا چاہتا ہوں کہ آدم کی پیدائش کے بعد سے اتنا بڑا منصوبہ بھی نہیں بنایا گیا۔آدم سے لے کر آج تک اتنی زبر دست جنگ روحانی جنگ (مادی ہتھیاروں سے نہیں ) شیطانی قوتوں کے خلاف نہیں لڑی گئی جتنی اس زمانہ میں جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے لڑی جانے والی ہے۔ہمارا ہادی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا سپہ سالار، ہمارا سپریم کمانڈر، ہمارا ہادی، ہمیں راہ راست دکھانے والا اور اپنی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اس پر قائم رکھنے والا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔باقی جس طرح سپریم کمانڈر کے ماتحت ایک زمانہ میں مختلف محاذوں پر مختلف جرنیل لڑ رہے ہوتے ہیں مثلاً ہمارے ہاں اس وقت پاکستان کی بری فوج کو جو د نیوی فوج ہے پانچ حصوں میں تقسیم کر کے پانچ کور کمانڈرز مقرر کئے گئے ہیں اور اس کے علاوہ فضائیہ کا ایک انچارج ہے اور بحریہ کا ایک انچارج ہے۔تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جو کمانڈر انچیف یا سپریم کمانڈر یا سپہ سالار اعظم ہے اس کے اختیارات میں فرق پڑ گیا یا اس کی کمان اس سے چھین لی گئی۔یہ مطلب نہیں نکلتا ہم پر مخالف اعتراض کرتے ہیں اس لئے میں یہ بات آپ کو سمجھا رہا ہوں۔اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو سپریم کمانڈر ہے اس کا مقام بہت بڑا ہے مثلاً پاکستان میں اگر پانچ کور کمانڈر ہیں تو امریکہ میں میرے خیال میں سو کے قریب یقینا ہوں گے۔پھر جو ہتھیار ہیں اس لحاظ سے فوج کی تقسیم ہے۔مثلاً بری فوج ہے۔فضائیہ ہے، بحریہ ہے، اور اب انسان نے ترقی کی اور نئے سے نئے ہتھیار بنالئے۔پہلے لڑنے والی فوج کے یہ تین باز و سمجھے جاتے تھے اور اب دنیا کے بعض ملکوں نے تین کی بجائے پانچ باز و بنالئے ہیں۔میزائل جو زمین سے اڑ کر جہازوں کو نشانہ کرتی ہے یاز مین سے زمین پر نشانہ کرتی ہے۔وہ اتنی ترقی کر گئی ہے کہ جس طرح فضائیہ کا ایک علیحدہ بازو ہے میزائل کا بھی علیحدہ باز و بنالیا گیا ہے اور ابھی ماضی قریب میں Rocketory را کٹری جو میزائل سے مختلف ہے ایک ملک نے اس کا علیحدہ باز و بنا لیا۔اور پانچ بازو ہو گئے۔جب فوج کے تین باز و تھے اس وقت سپریم کمانڈر کا یا سالار اعظم کا جو مقام تھا وہ دنیاوی لحاظ سے اتنا بڑا نہیں تھا جتنا بڑا مقام اب اس ملک کے سپریم کمانڈریا کمانڈر انچیف کا ہو گیا ہے جس میں تین کی بجائے پانچ باز و فوج کے ہیں۔لیکن ہم روحانی جہاد اور روحانی مقابلوں اور عظیم روحانی جنگ اور روحانی قربانیوں