مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 408 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 408

408 فرموده ۱۹۷۳ء د مشعل راه جلد دو دد میدان میں ایک نہایت اہم کردار ادا کیا۔ویسی عورت ہو تو ہم اس کو ہزار بار باہر بھجوانے کے لئے تیار ہیں۔لیکن اگر مرد بیچارے مظلوم افریقنوں میں یہ لیکچر دے رہا ہوں کہ ہم محمد اور محمد (ع) کے رب العالمین کی محبت کا پیغام تمہارے پاس لیکر آئے ہیں اور انکی بیویاں گھروں میں یہ نمونہ دکھا رہی ہوں کہ جس چار پائی پر ایک افریقن بیٹھ جائے اس پر وہ عورت نہ بیٹھے تو پھر کیسے کام چلے گا۔پس اگر ہماری عورت حقیقی معنوں میں مجاہدہ بن جائے تو ہم اس کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر وہ جھتی ہے کہ میں ایک مبلغ کی بیوی ہوں اس لئے میں جو مرضی کروں میری گرفت نہیں ہونی چاہیئے۔تو یہ تو نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آخری جنگ کے لڑنے کے لئے خلافت کا ایک سلسلہ جماعت احمدیہ میں قائم کیا ہے۔اس لئے ایسی مستوارات کیساتھ نرمی کا برتاؤ نہیں کیا جائے گا۔غرض میں نے لجنہ کے اجتماع میں کہا تھا کہ میں مردوں سے کہوں گا کہ وہ تمہاری تربیت کریں۔اس سلسلہ میں پہلے میں خدام سے یہ کہوں گا کہ ان میں سے بہت سے شادی شدہ ہیں۔اگر شادی شدہ نہیں تب بھی بہت سے خدام سمجھدار ہیں وہ اپنے اپنے گھروں میں جا کر عورتوں کو سمجھا ئیں اور ان کو بتائیں کہ تمہارا یہ مقام ہے۔تم نے اسلام کی اس آخری جنگ میں مردوں کے شانہ بشانہ لڑنا ہے۔پس یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں ہمیں ایک لمحہ کے لئے غافل نہیں ہونا چاہیئے ورنہ ہم اس جنگ کو کس طرح جیت سکتے ہیں۔ہمارے کئی احمدی دوست سوچنے لگ جاتے ہیں ( کچھ تو ویسے ہی کمزور ہو جاتے ہیں۔الہی بشارتوں کے پورا ہونے پر ان کو کامل یقین نہیں رہتا ) اور کہتے ہیں کہ ساری دنیا کے ہتھیار غیر مسلموں کے پاس ہیں ہم کیسے کامیاب ہوں گے۔مگر ایسے لوگ حضرت نبی اکرم ﷺ کے زمانہ پر نگاہ نہیں ڈالتے۔جتنا اب فرق ہے اُس زمانہ میں شاید کچھ زیادہ ہی تھا۔عرب کے غریب لوگ تھے ان کا معاشرہ غریبانہ تھا۔وہ اونٹوں کا دودھ پی کر اپنی زندگیاں گزارتے تھے۔بایں ہمہ انہوں نے بھی یہ نہ سوچا تھا کہ ساری دنیا کے خزانے تو کسری کے پاس جمع ہیں۔ساری دنیا کی دولت تو قیصر نے سمیٹ رکھی ہے ہم کیسے کامیاب ہوں گے۔انہوں نے صرف ایک بات سوچی تھی اور وہی بات ہمیں بھی سوچنی پڑے گی کہ خدا نے کہا ہے کہ تم غالب آؤ گے اس لئے ہم غالب آئیں گے۔دولت نہیں تو کیا ہوا سیاسی اقتدار نہیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔خدا تعالیٰ جو ہر چیز پر قادرا نہ تصرف رکھتا ہے اور جو اصل مالک ہے تمام خزانوں کا اس نے کہا ہے تم جیتو گے اس لئے ہم جیتیں گے۔میں تمہیں کہتا ہوں کہ اسی خدا نے جس نے ابتدائے اسلام میں اسلام کو ساری معروف دنیا میں غالب کر دیا تھا وہ اب بھی اسلام کو غلبہ عطا کریگا۔کیونکہ اس نے آنحضرت ﷺ کو یہ بشارت دے رکھی ہے کہ اسلام کا آخری غلبہ مہدی معہود کے زمانہ میں مقدر ہے۔اس کے بعد ساری جنگیں ختم ہو جائیں گی۔میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس حدیث کی (کہ مہدی جنگوں کو ختم کر دے گا) ایک تشریح یہ بھی ہے کہ وہ جنگوں کو ختم کر دیگا اس معنی میں کہ اسلام کا نہ کوئی معاند باقی رہے گا نہ کوئی مقابلہ میں فوج ہوگی اور نہ لڑائی کا سوال پیدا ہوگا۔کیونکہ آخری لڑائی جیت لی جائے گی۔اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے گا تو