مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 407 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 407

فرموده ۱۹۷۳ء 407 د دمشعل را کل راه جلد دوم پورے وقار کیساتھ۔وہ جنگ میں حصہ لیتی تھیں لیکن پورے تدبر کے ساتھ۔وہ جنگ میں شریک ہوتی تھیں اور ایک عمدہ نمونہ دکھاتی تھیں۔اسی طرح اب ہماری عورتوں کو بھی اس روحانی جنگ میں بہترین نمونہ بن کر شامل ہونا پڑے گا اور مردوں کے ساتھ باوقار طریق پر باہر نکلنا پڑے گا۔اسلام نے عورتوں کے لئے گھروں ہی میں جگہ مقررنہیں کی۔اسلام کا یہ منشاء نہیں ہے کہ عورتیں گھروں ہی میں بندر ہیں اور روٹیاں پکانے اور اپنے خاوندوں کی مٹھیاں بھرنے میں لگی رہیں۔اُن کا یہی کام نہیں ہے ہمیں ان کے لئے یہ سوچنا پڑے گا کہ انہیں دینی کاموں میں بھی زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا موقع ملے۔تاہم اس میں شک نہیں ہے کہ گھر کا کام کاج کرنا بھی عورت کی ذمہ داری ہے۔گھر کے کام بھی اسے کرنے ہوں گے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ تدبیر کرنی ہوگی کہ اسے زیادہ سے زیادہ وقت ملے قرآن کریم کے پڑھنے کا اور قرآن کریم کے علوم سیکھنے کا میدان جہاد میں نکلنے کا اور جب بھی وہ اپنے مبلغ خاوند کے ساتھ باہر جائے تو اشاعت اسلام کے سلسلہ میں مضامین لکھنے کا اور دشمنان اسلام کے اعتراضات کے جواب دینے کا۔غرض تبلیغ واشاعت اسلام کی عالمگیر مہم میں عورتوں کو شریک کرنے کے لئے ان میں وہی خصوصیات اور وہی روح پیدا کرنی ہوگی جو صحابیات میں کارفر ماتھی۔عورتوں اور خصوصاً مبلغین کی بیویوں سے حضور کی نیک توقعات مبلغوں کے ساتھ ان کی بیویوں کو باہر نہ بھیجوانے کی گواور بھی بہت مصلحتیں تھیں لیکن مجھے مجبورا اور دکھی دل کیساتھ یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ میں مبلغ کے ساتھ اس کی بیوی بھجوانے کی اجازت نہیں دوں گا اس لئے کہ بعض مبلغوں کی بیویوں نے بیرونی ممالک میں بہت گندہ نمونہ دکھایا۔ایسی عورتیں بجائے خود مجاہدہ بننے کے اس فوج کو جو دشمن کے خلاف صف آراء تھیں اس کو بدنام کرنے والی اور کمزور بنانے والی بن گئیں لیکن میرا بھی اور آپ کا بھی یہ دکھ دور ہونا چاہیے تاکہ میں بشاشت کیسا تھ ان کے باہر جانے کی منظوری دے سکوں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے ہماری ایک مجاہدہ (جسے دوبارہ باہر بھجوا دیا گیا ہے ) غانا میں بہت اچھا کام کرتی رہی ہے۔حتی کہ اب میں نے ۱۹۷۰ء میں مغربی افریقہ کا دورہ کیا تو میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ ہمارے بعض مبلغ اس سے اچھا بھی کام کر رہے ہیں یا نہیں۔میں نے دیکھا وہ بچوں کو قرآن کریم پڑھاتیں اور ان کی زبان میں اس کے مطالب سمجھاتی تھیں۔ہماری اس مجاہدہ نے بڑی پیاری بات کی۔کہنے لگیں جب مجھے میرے خاوند کیساتھ یہاں بھیج دیا گیا تو سوائے پنجابی اور تھوڑی سی اردو کے مجھے اور کوئی زبان نہیں آتی تھی۔میں نے یہاں آ کر سوچا بی ان کا اپنا بیان ہے ) کہ مجھے کوئی زبان تو سیکھنی چاہیئے۔انگریزی سیکھوں جو یہاں کام آتی ہے یا خود ان کی مقامی زبان سیکھوں جو بچوں کی تعلیم و تربیت میں کام آ سکتی ہے۔چنانچہ میرے دماغ نے فیصلہ کیا کہ میں یہاں کی مقامی زبان سیکھوں۔میں نے جلد ہی مقامی زبان سیکھ لی اور بچوں کو قرآن کریم، اس کا ترجمہ اور تفسیری معنے سکھانے شروع کر دئیے۔چنانچہ اس طرح ہماری اس مجاہدہ نے تربیت کے