مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 35 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 35

35 فرموده ۱۹۶۶ء د و مشعل راه جلد دوم دد متعلق کہا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ارادے اور نیتیں یہ تھیں کہ وہ خدا تعالی کی ہر آواز پر لبیک کہیں گے اور اسی لئے انہوں نے پہلے سے اپنے آپ کو تیار کیا ہوا تھا۔جسمانی لحاظ سے بھی اور جس حد تک ان کیلئے ممکن تھا ظاہری تدابیر کے لحاظ سے بھی، اگر کسی کولو ہے کی تلوار میسر نہ آئی تھی تو اس نے لکڑی کی تلوار بنائی تھی اور انہوں نے عزم کیا تھا کہ انہوں نے کوئی ظاہری تدبیر نہیں چھوڑنی۔اگر لوہے کی تلوار نہیں تو لکڑی کی ہی سہی اور انہوں نے خیال کر لیا تھا کہ تلوار نہیں تو کوئی بات نہیں۔آخر لوگ ڈانگ سے بھی تو مارا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ہم جائیں گے ضرور تلوار نہیں تو لکڑی ہی چلائیں گے۔لیکن وہ اپنی صحت کا ضرور خیال رکھتے تھے۔پس صحت جسمانی کی طرف اور ذہانت کی طرف ہمیں خاص طور پر توجہ کرنی چاہیئے اور آخر میں میں مختصر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم جو بھی ہیں یا جو بھی بن جائیں۔دنیا جہان کے اموال ہمارے قدموں میں آجائیں۔دنیا جہان کے خزانوں کو ہم شکست دینے کے قابل ہو جائیں۔ساری دنیا ہماری غلام ہو جائے تب بھی ہم خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم ایک ہزار موت اپنے نفس پر وارد نہ کریں۔جب تک کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور خلوص نیت کے ساتھ ، صدق کے ساتھ اور وفا کے ساتھ ہر آن اور ہر لحظہ یہ اقرار نہ کرنے والے ہوں کہ اے خدا ہم سے تو کچھ ہوا یا نہیں ہوا۔لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم انتہائی طور پر جاہل، انتہائی طور پر کم علم کم طاقت بلکہ کچھ بھی نہیں ، ہم محض نیستی محض نیستی محض نیستی ہیں۔مگر کوئی نتیجہ نکلا ہے تو صرف تیرے فضل کے ساتھ نکلا ہے۔اگر ہمیں آخری فتح نصیب ہونی ہے تو صرف تیرے فضل اور تیری رحمت کے ساتھ ہوتی ہے۔ہم کچھ نہیں کر سکتے۔تیرا حکم ہے ہم اس کی تعمیل کر رہے ہیں۔جس طرح ہم سے پہلے صحابہ کرام لکڑی کی تلوار میں لے کر جنگ میں کود جاتے تھے اسی طرح ہم اپنے ٹوٹے ہوئے دل اور ٹوٹے ہوئے جسم اور ٹوٹی ہوئی تدابیر تیرے قدموں میں لا کر ڈال دیتے ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اگر تیری رضا کی نظر ہم پر پڑ گئی تو کوئی طاقت یا وہ طاقتیں جن کو ہم شیطانی طاقتیں کہتے ہیں ہمارے مقابلہ میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتیں۔کیونکہ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے رب کے آگے نہیں چل سکتی۔ہمیشہ کے لئے پیغام پس سب سے آخر میں اور سب سے ضروری میرا آج کا پیغام بلکہ ہمیشہ کیلئے پیغام ہے کہ اپنے نفسوں پر اس موت کو وارد کرو جس موت کو ہمارے بزرگوں نے جو خدا تعالیٰ کے مقرب بنے اپنے نفسوں پر وارد کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت ابو یزید بسطامی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بہت بڑے بزرگ تھے اور ان کا بڑا شہرہ تھا۔ہمارے بزرگ وہ تھے جو حقیقتاً بزرگ تھے۔جو اپنی بزرگی کے اظہار سے بھی گھبراتے تھے۔وہ اس چیز سے گھبراتے تھے کہ کوئی ان کو بزرگ سمجھے۔بیسیوں مثالیں اس قسم کی ہماری تاریخ میں پائی جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان میں سے ایک مثال بیان کی ہے جو میرے ذہن میں آگئی ہے اور میں اسے آپ