مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 345 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 345

دومشعل دوم فرموده ۱۹۷۲ء 345 مورخه ۵ ، اخاء۱ ۱۳۵ هش مطابق ۵، اکتو بر۱۹۷۲ ء گیارہ بجے قبل دو پہرسیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے ۲۹ ویں سالانہ اجتماع کا افتتاح فرمایا۔اس موقعہ پر حضور نے جو بصیرت افروز خطاب فرمایا تھا وہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سید نا حضور نے فرمایا:- خادم کا رُومال قبل اس کے کہ میں اس وقت وہ باتیں کہنا شروع کروں جن کے کہنے کا ارادہ لے کر میں یہاں آیا ہوں، میں خدام کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے خادم کی علامت کے طور پر ایک رومال تجویز کیا ہے۔کیونکہ وقت کم تھا اس لئے یہ صرف پانچ سو کے قریب تیار ہو سکے ہیں جن میں سے نصف کے قریب تو نو جوان بچوں نے خرید لئے ہیں اور نصف ابھی پڑے ہوئے ہیں۔خدام کو چاہیئے کہ وہ بھی خرید لیں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ساری دنیا میں ہر خادم اسلام کے پاس یہ رومال ہونا چاہیئے۔اس رومال میں ایک چھلا پڑتا ہے۔یہودی بڑی ہوشیار قوم ہے۔وہ دنیا میں ہر لحاظ سے اپنی بڑائی پھیلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔اس سلسلہ میں اُن کے بعض خاموش ذرائع بھی ہیں۔غرض ان کی دنیوی شہرت کا ایک ذریعہ یہ چھلا بھی بنا اور انہوں نے گردن میں ڈالنے والے رومال کیلئے جو چھلا بنا رکھا ہے، اس پر سانپ کی شکل بنادی ہے اور اس طرح گویا انہوں نے ہر مسلمان کے گلے میں جو یہ رنگ استعمال کرے، اپنی یہ علامت ڈال دی ہے۔چنانچہ جس وقت مجھے اس رومال اور چھلے کا خیال آیا تو میں نے سوچا ہمیں اپنے لئے رنگ (چھلے ) خود تجویز کرنے چاہئیں اور اسی طرح سکارف (رومال) کا نمونہ بھی خود ہی بنانا چاہیئے۔مجھے یاد آیا کہ چین میں الحمرا کی دیواروں پر مجھے چار فقرے نظر آئے تھے۔(۱) لا غالب الا للہ جو بڑی کثرت کے ساتھ لکھا ہوا تھا۔(۲) القدرة الله (۳) الحكم لله (۴) العزة لله۔ان سے فائدہ اٹھا کر یہ تجویز کی ہے۔عام اطفال اور خدام یعنی ہر رکن کیلئے القدرة الله کا رنگ یعنی چھلا ہے اور جو عہدہ دار ہیں ان کیلئے العزة الله کا۔اور یہی لجنہ اماءاللہ کا نشان ہے۔البتہ ان کے رومال کا رنگ مختلف ہے۔ویسے تو جھنڈوں کیلئے عام طور پر سبز رنگ ہوتا ہے مگر ہمارے اس رومال کا رنگ کالا اور سفید اس لئے ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ کے جوجھنڈے تھے وہ یا کالے رنگ کے تھے اور یا سفید رنگ کے تھے چنانچہ پہلی بار جب ہماری جماعت کا جھنڈا بنا تھا اسوقت حضرت مصلح موعودؓ نے اس سلسلہ میں چھان بین کرنے کیلئے ایک کمیٹی مقررفرمائی تھی جس میں مجھ خاکسار کو بھی شامل کر دیا تھا۔چنانچہ اس ہم نے پوری