مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 344 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 344

344 فرموده ۱۹۷۲ء دو مشعل راه جلد دوم دد کر لیں۔بہر حال آپ کو پوری نیند آنی چاہئے اور اپنی ضرورت کے مطابق اور اپنے معدے کی طاقت کے مطابق ماں باپ کی جیب کی طاقت کے مطابق نہیں ) معدے کی طاقت کے مطابق کھانا کھانا چاہئے۔اور کھانا کھانے کے بعد اس کو ہضم کرنا چاہئے۔کئی دفعہ مجھے خیال آتا ہے کہ پندرہ میں دن کی کلاس یا تین ہفتے کی ایک کلاس منعقد کی جائے۔جس میں بھلائی اور نیکی کی باتیں بتائی جائیں۔ساتھ ہی کھانا اور کھانے کے ہضم کا انتظام ہو۔اصل خوراک اس بات کی ہے۔پھر دیکھیں کیا فرق پڑتا ہے۔جو انفرادی طور پر میں بھی کبھی تجربے کیا کرتا ہوں وہ تو بڑا اچھا نتیجہ پیدا کرتے ہیں۔ہماری جو جسمانی طاقتیں ہیں وہ اس طرح جس طرح اس ہال کے نیچے روڑی کوئی گئی تھی اسی طرح انہیں طاقتوں کے اوپر پھر ذہنی طاقتوں کی ایک منزل بنی ہے۔پھر اخلاقی طاقتوں کی دوسری منزل بنتی ہے۔پھر اوپر بالا خانہ روحانی طاقتوں کا بنتا ہے۔اگر بنیاد ٹھیک طرح کوئی نہ گئی ہو تو وہ عمارت کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔باقی چیزوں کو مثلاً عمر کے لحاظ سے آدمی ایک ایسی عمر میں داخل ہوتا ہے کہ اس کی خواہش بہت زیادہ ہوتی ہے جوانی سے بھی زیادہ نیکیاں کرنے کی لیکن جسمانی طاقت ساتھ نہیں دیتی اور کئی انبیاء کی طرف یہ بات منسوب ہو کر یہ روایت آئی ہے کہ خواہش تو ہے اے رب تیری راہ میں قربانی کرنے کی مگر جسم ساتھ نہیں دے رہا۔اسی مفہوم کی باتیں پہلی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔پس جہاں تک ممکن ہے جسم کو اس قابل بناؤ کہ دینی اور اخلاقی اور روحانی جد و جہد اور مجاہدہ کے قابل بن جائے یہی مجاہدہ ہے جس میں آپ نے ایک نہ ایک دن پڑنا ہے۔آپ کا جسم اس قابل ہوگا تبھی اس کو برداشت کر سکے گا۔ورنہ نہیں۔میں نے کئی بڑے اچھے ذہین اور صاحب فراست بچے دیکھے ہیں۔آٹھویں دسویں میں پڑھتے ہیں لیکن چونکہ ان کی جسمانی طاقت اتنی کمزور ہوتی ہے کہ وہ پڑھائی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔اگر کوئی ان کو سنبھال لے تو وہ آسانی سے برداشت کر جائیں گے۔شاید یونیورسٹی میں فرسٹ آجائیں۔اب ہم جو دعا کریں گے اس میں یہ بھی دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ ہماری تمام صلاحیتوں کا ایک متوازن ارتقاء ہو اس کے اللہ تعالیٰ سامان پیدا کرے اور ان سامانوں میں اپنی سمجھ اور عقل بھی ہے۔کیونکہ انسان خود ہی اپنے آپ کا دشمن بن کے اپنے آپ کو نقصان پہنچا تا ہے۔خدا کرے ایسا نہ ہو، نہ ہم اپنے دشمن ہیں اور نہ کوئی دشمن ہماری صلاحیتوں کے ارتقاء میں ہمیں نا کام کرنے میں کامیاب ہو۔اس کے فرشتے ہر قوت کی جو ہمیں عطا کی گئی ہے حفاظت کرنے کے لئے آئیں۔اور تمام قولی ہمارے جو اللہ تعالیٰ کی از بر دست عطا ہیں وہ متوازن ترقی کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے اس پیار کو حاصل کر لیں جو پیارا اللہ تعالیٰ انفرادی حیثیت میں ہراحمدی کی استطاعت کے مطابق اسے دینا چاہتا ہے۔آؤدعا کر لیں“۔