مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 329
فرموده ۱۹۷۲ء 329 د دمشعل را مل راه جلد دوم جو خدا ہمیں کہتا ہے۔قرآن کریم میں سکھاتا ہے۔دوسرے یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے انسان کے لئے پیدا کیا ہے۔اور تیسرے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ یہ جو اس کی خدمت ہے یہ دو قسم کی ہے۔ایک وہ کہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں ہماری خدمت ہو رہی ہے۔مثلاً یہ سورج چڑھتا ہے۔اس کی روشنی زمین کو طاقت بخش رہی ہے۔خواہ ہم پسند کریں یا نہ کریں خواہ ہم اپنے آپ کو اس کا اہل بنا ئیں یا نہ بنائیں۔سورج کی روشنی پڑتی رہے گی اور دوسری قسم کی خدمت وہ ہے جو ہم کوشش سے ان چیزوں سے لیتے ہیں۔اور جب کوشش سے ان چیزوں سے خدمت لینے کا سوال پیدا ہوا تو آسمانی ہدایت کا نازل ہونا ضروری ہو گیا۔ورنہ انسان بہک جاتا اور شیطان کی گود میں چلا جاتا تو پھر آسمان سے ہدایت کے نزول کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اور ایک سلسلہ نبوت جاری ہو گیا۔ہزاروں سالوں کی تربیت کے نتیجہ میں اس میں محمد ﷺ اور آپ کی شریعت کو قبول کرنے کے سامان پیدا کئے۔پھر کامل اور مکمل شریعت آگئی اور شریعت کے ) لانے والے کا نام محمد ہی تو ہے ہمارا ذرہ ذرہ ہمارا جگر اور ہماری روح آپ پر قربان ہو۔ہمارے اگلے اور پچھلے آپ (ﷺ) پر فدا ہوں۔ہماری ہر چیز آپ پر قربان ہو۔ہم نے آپ کے پیار اور آپ کے احسان کو دیکھا۔ہم آپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نگاہ نہیں کر سکتے۔یہ آپ کا وہ مقام ختم نبوت ہے جسے ہم نے پہچانا ہے اور جسے ہمارے نزدیک ہمارے مخالفین نے نہیں پہچانا۔بایں ہمہ وہ ہمیں منکرین ختم نبوت کہیں بھی تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔کیونکہ وہ جو خدائے قادر و توانا ہے اور خاتم الانبیاء کو پیدا کرنے والا ہے وہ کہتا صلى الله ہے کہ تم میرے محمد (ع) کو پہچانتے اور میری توحید پر قائم ہو۔میں تم سے پیار کرتا ہوں۔جب خدا تعالیٰ کے پیار کی یہ آواز ہمارے کانوں میں پڑتی ہے تو پھر اگر ساری دنیا اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر ہم پر کفر کے فتوے لگانا شروع کر دے۔تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس پیاری آواز کے بعد بعض لوگوں کے کفر کے فتووں کو بھلا حیثیت اور قدرو قیمت ہی کیا ہے۔اس پیار کے مقابلہ میں دنیا کی ہر چیز بیچی ہے۔پس یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ہم دل سے حضرت محمد ﷺ کو خاتم الانبیاء مانتے ہیں۔آپ خاتم الانبیاء ہیں اور اس بلند مرتبہ اور شان کے نبی ہیں کہ آپ سے پہلے نبیوں کی نبوتیں بھی آپ کے فیض رسالت کی مرہون منت تھیں اور آپ کے دور میں آنے والوں کے روحانی درجات بھی آپ ہی کے فیوض کا نتیجہ ہیں۔ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے اور ہم اس عقیدہ پر قائم ہیں کہ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے۔ہم اس عقیدہ پر بھی قائم ہیں کہ جیسا کہ قرآن کریم نے اعلان کیا ہے اور کھول کر اور بار بارا انسان کے سامنے رکھا ہے۔اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی برحق اور درست ہے۔انسانی زندگی موت کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتی۔خدا تعالیٰ کی یہ پیدائش عبث نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی خلق میں اس کی صفات کے بے شمار حسین جلوے باطل نہیں ہیں۔وہ ضائع ہونے والے نہیں ہیں۔وہ بے نتیجہ نہیں ہیں۔پھر ان کا کیا نتیجہ ہے؟ ان کا نتیجہ اخروی زندگی ہے۔اس زوی زندگی کا ہمیں پتہ نہیں۔لیکن ہم اس زندگی پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔جب جائیں گے دیکھ لیں گے۔لیکن ہم اس حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں کہ اخروی زندگی کا وجود اس دنیوی زندگی کی پیدائش اور خلق یعنی اللہ تعالیٰ