مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 313
و مشعل راه جلد دوم د فرموده ۱۹۷۲ء 313 بعض دفعه ساری ساری رات کہتا ہے کہ میں تجھ سے پیار کرتا ہوں تجھے اس دنیا کی کیا پر واہ۔جو شخص اپنی استطاعت کے مطابق خدا تعالیٰ سے اس قسم کا تعلق پیدا کر لیتا ہے وہ دنیا کی مخالفت یاد نیا کی ایذارسانی زبانی ہو یا جسمانی اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔اس نے اپنے زندہ خدا کا زندہ پیار دیکھا ہوتا ہے۔اس کو ذاتی محبت کہتے ہیں۔توحید باری کی حقیقت غرض تو حید باری کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کے دل میں اپنے پیدا کرنے والے رب کی جو حسن کا بھی سر چشمہ ہے اور احسان کا بھی سر چشمہ ہے اس کی صفات کی معرفت پیدا ہو جائے۔جو لوگ اپنے رب کی صفات کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں، وہ پھر پیار کرنے میں کسی لالچ کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ اپنے پیدا کرنے والے رب سے ذاتی پیار کرنے لگ جاتے ہیں۔پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو اس تعلق سے دور نہیں لے جاسکتی اور اس تعلق کو قطع نہیں کر سکتی۔دنیا کی خواہ کتنی تیز دھار کی تلوار ہی کیوں نہ ہو۔وہ اس تعلق کو قطع نہیں کر سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ایسے شخص کو اگر ہاون مصائب میں اس طرح پیس دیا جائے جس طرح حکیم جڑی بوٹیوں کو رگڑ کر دوائیوں میں استعمال کرنے کے لئے اس کا ایک پانی یعنی نچوڑ نکالتے ہیں۔تو اس کو بھی رگڑ کر پیس دیا جائے اس کی ہڈی پسلی ایک کر دی جائے۔پھر اس کو خوب نچوڑا جائے تو جو اس کا Essence نکلے گا۔وہ محبت الہی ہوگا۔یعنی ایسے لوگوں کو ان چیزوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی ان کو خواہ پیس بھی دیا جائے تو ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلق ہوتا ہے۔کوئی چیز اس کو قطع نہیں کر سکتی۔پس ہم احمدیوں کا یہ اعتقاد ہے اور ہماری یہ ذہنیت ہے میں یہ نہیں کہتا کہ آپ جو کم عمر بچے ہیں اور ابھی آپ نے اللہ تعالیٰ فضل کرئے روحانی اور جماعتی اور دینی اور دنیوی طور پر بہت ترقیات کرنی ہیں۔اس زندگی کے اس مقام میں روحانیت کے اس مقام پر پہنچیں گے۔میں یہ نہیں کہتا لیکن میں آپ سے یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہر احمدی بچے کو جب اس کو ذرا بھی سمجھ آ جائے۔اور جس عمر میں آپ داخل ہو چکے ہیں اس میں اس راہ کو اختیار کر لینا چاہیئے۔جس کے آخر میں وہ شخص ہے کہ اگر اس کو کوٹ کوٹ کر اس کا قیمہ بنا کر نچوڑا جائے تو سوائے محبت الہی کے اس میں سے کچھ بھی نہ نکلے۔آپ کو ابھی سے اس راہ کو اختیار کر لینا چاہیئے تا کہ آپ انتہا ء تک پہنچ جائیں۔سیدھی راہ ہو اور اس راہ پر حرکت ہو۔تب اس کا ایک نتیجہ نکلتا ہے۔اگر کسی شخص نے لاہور جانا ہو اور وہ سرگودھا کا راستہ لے لے تو وہ لا ہور نہیں پہنچ سکے گا۔اگر کسی شخص نے لاہور جانا ہو۔اور راستہ لاہور کالے۔اور کسی درخت کے نیچے چوکڑی مار کر بیٹھ جائے اور چلے ہی نہ تو لا ہور نہیں پہنچ سکے گا۔گو یا منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک صراط مستقیم ہو اور دوسرا صراط مستقیم پر مناسب اور حتی المقدور حرکت ہو۔ایک شخص جو خرگوش کی طرح دوڑنے والا ہے وہ یہاں سے لالیاں کی طرف روانہ ہو اور راستے میں سو جائے تو جو آدمی کچھوے کی طرح چلنے والا ہے وہ اس سے پہلے پہنچ جائے گا۔آپ میں سے بہت ساروں نے بچپن میں خرگوش اور کچھوے