مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 304 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 304

دد د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۱ء 304 جس آدمی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اپنا سر رکھا اس کا مقام بھی انتہائی نقطہ عروج سے متصل ہے۔لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھنا ضروری ہے۔اس کے بغیر وہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔پس ہمارے رب نے ہم پر یہ بڑا احسان کیا جب کہ اس نے ہمیں خدمت کے مقام پر کھڑا کر دیا۔آپ اس مقام کو کبھی نہ بھولیں۔اب جیسا کہ حکومت وقت نے کہا ہے ہمیں ملک کی خدمت کرنی پڑے گی۔اور کئی قسم کی خدمت کرنی پڑے گی۔میں اس وقت تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔آپ ہر خدمت کیلئے تیار ہو جائیں۔ہر انسان جس حیثیت میں بھی ہو آپ نے اس کی خدمت کرنی ہے۔ان کی بھی خدمت کرنی ہے جو آپ پر بھائی بھائی ہونے کی حیثیت سے جانیں شار کرنے والے ہیں اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ان کی بھی خدمت کرنی ہے جنہوں نے ساری عمر میں آپ کی دشمنی میں ضائع کر دیں۔کوئی آدمی بھی اس خدمت سے محروم نہیں رہے گا اور نہ ہمارے اس پیار سے محروم رہے گا (اردو میں جو پیار کے معنی ہیں وہ مراد ہیں۔عربی میں اس کے معنی اور ہوتے ہیں) اور نہ اس مساوات سے محروم رہے گا۔نہ ہمارے ہاتھ سے ان کے حقوق مارے جائیں گے کیونکہ ہم تو کچھ بھی نہیں۔لاشی محض ہیں۔زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ایک ہی حقیقت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام عرش رب العلمین پر اور ہمارا سر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر۔اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا کہ ہمیں آقا بننے سے بچالیا اور ( بایں ہمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی میں) وہ بزرگی اور وہ تزکیہ اور وہ طہارت اور وہ بلندی اور وہ رفعت عطا فرمائی کہ جو صرف اس وقت ملتی ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے دونوں ہاتھوں سے سہارا دیا ہو۔حسی اللہ ونعم الوکیل۔اس کے بعد انسان کو کسی اور سہارے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔اب آپ یہاں سے واپس جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہی جانے کہ وہ آپ سے کیا کیا نئی خدمتیں لینا چاہتا ہے۔اس کے لئے آپ کو تیار ہونا چاہئے اور آپ نے ہر شخص کی ہر جاندار کی اور ہر بے جان کی بھی خدمت کرنی ہے۔اب مثلاً درختوں کے کاٹنے سے روک دیا نو درخت کاٹے گئے تھے۔جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی کیا گیا ہے۔اتنی حرمت مفید چیزوں کی اسلام نے قائم کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے کہا تھا تب کاٹے گئے۔انسان کی جان بچانے کے لئے کہا تھا تب کاٹے گئے تھے اور وہ بھی صرف نو درخت تھے۔جو ایک جنگ کے موقع پر کاٹے گئے تھے۔یہ نہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں درخت کاٹ دیئے گئے ہوں صرف نو درخت تھے اور قرآن کریم نے ان کا ذکر کر دیا۔خلق جو ہے یعنی ہر وہ چیز جو ہمارے محبوب اور مطلوب پیارے رب کے ہاتھوں خلق ہوئی ہے ہمارا اس کے ساتھ الفت اور خدمت کا تعلق ہے یہ صحیح ہے کہ وہ ہمارے لئے مسخر ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہمیں کسی حلال جاندار کی گردن پر چھری رکھنے کی بھی اپنے طور پر اجازت نہیں ہے۔جب تک کہ خدانہ کہے اور اسی لئے فرمایا اس موقع پر بسم اللہ پڑھو ورنہ تمہارے ایمان کمزور ہو جائیں گے۔بسم اللہ پڑھنے کے نتیجہ میں آپ نے جس بکرے کو یا جس دنبے کو یا جس اونٹ، گائے یا بھینس کو یا جس مرغ کو یا کسی اور پرندے کو ذبح کیا ہے اس کے گوشت میں صرف اس