مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 252 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 252

د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷ء 252 باعث نہیں بنی بلکہ اس کی موت کا باعث بن گئی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے مالک ہونے کے یہ جلوے ہم عاجز بندوں کو دکھا تا رہتا ہے۔تا کہ ہم اسے بھول نہ جائیں اور اس کی طرف جانے والے رستہ کو چھوڑ نہ دیں۔اللہ تعالیٰ سے اس قسم کا تعلق پیدا ہو نہیں سکتا اور انسان بلند مقام تک پہنچ نہیں سکتا اگر اس کا نفس کچھ موجود ہو یا اس میں انانیت پائی جاتی ہو اس لئے اگر آپ نے اچھا خادم بننا ہے۔تو آپ کو تو اضع ، خاکساری اور انکسار کو اختیار کرنا پڑے گا۔کیونکہ جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے۔وہ خالی پانی پینے کا یا بوٹ کے تسمے کا نہیں بلکہ ساری دنیا کو اور دنیا کی ساری اقوام کو اکٹھا کر کے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے قدم مبارک میں جمع کر دینے کا ہے۔یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔تسمہ آپ لے نہیں سکتے، پانی کو حکم نہیں دے سکتے اور اتنا بڑا کام آپ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر کیسے کرسکیں گے۔اسی واسطے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔اِذَا تَوَاضَعَ الْعَبْدُ رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ (کنز العمال جلد ۲ صفحه ۲۵ ) کہ تم میں سے شریعت اسلامیہ اور ہدایت کے مطابق جو بھی تواضع کی راہوں کو اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ساتویں آسمان تک لے جائے گا کیونکہ اگر کوئی آدمی چھلانگ لگائے تو اس کی چھلانگ دس فٹ اوپر نہیں جاسکتی۔چھ فٹ کی دیوار کے لئے کہتے ہیں کہ بڑا چالاک چور ہے۔اس نے پریکٹس کی ہوگی تب ہی چھلانگ مار کر نکل گیا ہے۔لیکن ایک عام آدمی تو چھ سات فٹ کی دیوار بھی پھاند نہیں سکتا۔ساتویں آسمان تک پہنچنے کی آپ کو کب طاقت ملی۔لیکن ساتویں آسمان تک پہنچنے کے سامان اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے پیدا کر دئیے ہیں۔اور فرمایا تو اضع خاکساری اور انکسار کو اختیار کرو ہم ذمہ لیتے ہیں تمہیں ہاتھ سے پکڑیں گے اور ساتویں آسمان تک پہنچادیں گے۔جس طرح ماں چھوٹے بچے کو جو ابھی چل بھی نہیں سکتا اس کے قدم ڈگمگا رہے ہوتے ہیں۔اس کو گود میں اٹھالیتی ہے اور بعض دفعہ کسی چھ سات فٹ اونچی جگہ پر بٹھانا ہوتو بٹھا دیتی ہے یا باپ اسے کندھے پر بٹھا لیتا ہے حالانکہ وہاں تک پہنچنے کی اسے طاقت ہی نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تو ہماری حالت اس چھوٹے بچے سے بھی گئی گزری ہے اللہ تعالیٰ کی طاقت تو باپ اور ماں سے کہیں زیادہ ہے۔اس کا تو اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔اس واسطے اگر ایک خادم نے حقیقی معنوں میں خادم بننا ہے اور اس نے اس قوت کو اس کی نشو ونما کے کمال تک پہنچانا ہے تو یہ ضروری ہے کہ وہ ان راہوں کو اختیار کرلے۔پھر ہمدردی مخلوق ہے۔میں نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے ہمارے سب چھوٹوں اور بڑوں کا کام ہی ہمدردی مخلوق ہے انصار کا بھی یہ کام ہے اور آپ کا بھی یہ کام ہے۔( دراصل انصار بھی خادم ہیں صرف نام بدلا ہوا ہے)۔جماعت احمد یہ پیدا ہی دنیا کی خدمت کے لئے ہوئی ہے ہم نے دنیا سے بہر حال ہمدردی کا سلوک روا رکھنا ہے۔مجھے یاد آ گیا میں افریقہ میں گیا تو جب میں یہ بات کہتا تھا کہ اسلام ہمدردی مخلوق کی تلقین کرتا ہے تو وہ حیران رہ جاتے تھے اور اس کا بڑا اثر لیتے تھے اور بڑے خوش ہوتے تھے۔میں ان سے کہتا تھا کہ میں آپ کے لئے محبت کا پیغام لے کر آیا ہوں مساوات کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ایک دفعہ میں نے ان سے کہا کہ تمہاری عزت اور احترام کا سورج طلوع ہو چکا ہے اب آئندہ دنیا تمہیں نفرت اور حقارت سے نہیں دیکھا کرے گی ہم اس کے