مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 244
د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷ء 244 آدمی مجھ سے آکر ملتے ہیں میں انہیں سمجھایا کرتا ہوں کہ دیکھو اسی اکاسی سال کی گالیوں اور مخالفتوں نے ہمارے چہرے سے مسکراہٹ نہیں چھینی۔ہم ہمیشہ مسکراتے رہے ہیں اور انشاء اللہ مسکراتے رہیں گے۔غرض اچھے اخلاق ہونے چاہئیں اس معنے میں کہ جب تم دوسرے سے ملو یا اس سے بات کرو تو زبان کی تیزی نہ دکھاؤ۔تمہارے چہرے پر ہر حال میں مسکراہٹ ہو تو یہ بات دوسرے پر اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔میں ابھی پرسوں بدھ کے روز ایک صاحب سے ملنے گیا تھا ان کے سیکرٹری نے ہمارے سیکرٹری سے کہا کہ میں نے تو ایسا چہرہ ساری عمر کبھی نہیں دیکھا۔کیونکہ چہرے پر بشاشت تھی اور ملتے ہوئے اسے پتہ تھا کہ میرے اندر سے ہمدردی پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہی ہے۔اس کے علاقے کے متعلق میں نے باتیں کیں تو وہ حیران ہو گیا کہ اچھا ہمارے علاقے کے متعلق دنیا میں اس نہج سے بھی سوچنے والے ہیں۔پس ہر خادم کا یہ حق ہے کہ خادم بننے کے لئے اور جذبہ خدمت کی نشو ونما کو کمال تک پہنچانے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ ان کا استعمال کرے اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہ گر یا بارہ طریقے بتائے ہیں جن کے ذریعہ ایک خادم اپنے حق کو لے سکتا ہے یعنی اس کے اندر جو قوت ہے خدمت کی اور جذبہ ہے خدمت کا اس کی نشو ونما کو کمال تک پہنچانے کے لئے ان طریقوں کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔یہ اس کا حق ہے یہ اسے ملنا چاہیئے ورنہ وہ آدھا رہ جائے گا۔اگر وہ اپنے دائرہ استعداد میں مثال کے طور پر آسمان کی طرف دس منزلیں چڑھ سکتا تھا تو وہ پانچ منزلیں چڑھے گا۔اس کا آدھا حق مارا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان کی طرف دس منزلیں چڑھنے کے لئے پیدا کیا تھا۔پس آپ سوچا کریں اور اس بات کی مشق کیا کریں کہ جس سے بھی آپ بات کریں تیوری چڑھا کر نہ بولیں۔اگر آپ کو کوئی گالی دے تو اس سے بھی آپ ہنس کر بات کریں۔یہاں بھی اس وقت کالجوں میں پڑھنے والے بہت سارے طالب علم آئے ہوئے ہیں۔میں جن دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھا کرتا تھا۔ان دنوں کا مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آ گیا۔کالج میں چھٹی تھی۔میں قادیان جارہا تھا۔ایک تیز قسم کا مخالف بھی گاڑی کے اسی ڈبے میں بیٹھ گیا۔لاہور سے امرتسر تک وہ میرے ساتھ بڑی سخت بد زبانی کرتا رہا اور میں مسکرا کر اسے جواب دیتا رہا۔جس وقت وہ امرتسر میں اتر اتو اس مسکراہٹ اور خوش خلقی کا اس پر یہ اثر تھا کہ وہ مجھے کہنے لگا اگر آپ جیسے مبلغ آپ کو سو دو سول جائیں تو آپ ہم لوگوں کو جیت لیں گے کیونکہ میں نے آپ کو غصہ دلانے کی پوری کوشش کی مگر آپ تھے کہ ہنتے چلے جارہے تھے۔پس اگر کوئی آپ کو گالی دے کوئی برا بھلا کہے بلکہ کوئی چھیڑ بھی لگا دے تو آپ کو غصہ کرنے کی ضرورت نہیں۔آپ غصہ کرنے کے لئے پیدا ہی نہیں ہوئے۔آپ خادم ہیں۔ایسے موقعہ پر آپ مخالف کے سامنے ہنسا کریں۔۱۹۵۰-۵۱ء کی بات ہے پنجاب میں سیلاب آیا اور ہمارے بہت سارے علاقے چھوٹے چھوٹے جزیرے بن گئے اور لوگ بھو کے مررہے تھے۔تو ظفر الاحسن صاحب جوڈی سی لگے ہوئے تھے اور جن سے