مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 243 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 243

243 فرموده ۱۹۷۰ء دو مشعل راه جلد دوم نے کوشش کی کہ یہ محبت ان کو ملے۔یہاں تک کہ ایک موقع پر ایک آدمی میرا ہاتھ پکڑ لیتا تھا اور وہ چھوڑتا ہی نہیں تھا۔دوسرا آدمی جو اس کے پیچھے ہوتا تھا وہ آگے آ کر اپنے ایک ہاتھ سے میرا ہاتھ پکڑتا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دے کر چھڑوا تا تھا اور پھر وہ خود میرا ہاتھ پکڑ لیتا تھا اور دوسرے کو موقع نہیں دیتا تھا۔غرض میں بتا یہ رہا ہوں کہ خوش اخلاقی کا بڑا اثر ہوتا ہے اور یہ ایک ایسا خلق ہے جس کا بغیر کچھ خرچ کئے اثر ہوتا ہے۔اس میں وقت کا بھی کوئی خرچ نہیں مال کا بھی کوئی خرچ نہیں لیکن اس طرح آپ دوسرے کو خوشی پہنچاتے ہیں اس کو مسرت حاصل ہوتی ہے اور وہ ہشاش بشاش ہو جاتا ہے۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ ایک دن میں نے اُن سے کہا کہ آج میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ پیار کا جواب ہمیشہ پیار میں ملتا ہے۔یہ میرے دورے کے آغاز میں نائیجیریا کی بات ہے۔ایک دن میں میں نے بلا مبالغہ ان لوگوں سے پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک مسکراہٹیں وصول کی ہیں۔جن میں مشرک بھی تھے عیسائی بھی تھے بد مذہب بھی تھے اور غیر احمدی مسلمان بھی تھے۔احمدی تو عام طور پر جلسوں میں ہوتے تھے سڑکوں کے اوپر تو وہ نہیں ملتے تھے اور میں ان کو مسکرا کر سلام کرتا تھا اور ان سب کے چہروں پر مسکراہٹ اور خوشی کی لہر دوڑ جاتی تھی۔ان کی یہ عادت ہے کہ ایک چیخ مارتے تھے اور اس پر کارخانے کے سارے مزدور چھلانگیں لگا کر باہر نکل آتے تھے۔جب میری کار نظر آتی تھی تو کوئی آدمی چیخ مارتا تھا جسے کا رنظر آ جائے تو سارے مزدور کام چھوڑ کر سڑک پر آ جمع ہوتے تھے صرف مسکراہٹ کے ساتھ سلام وصول کرنے کے لئے۔افریقی بچے کو جب میں نے پہلی بار اٹھایا اور پیار کیا تو صرف ان کے چہروں پر میں نے خوشی نہیں دیکھی بلکہ میرے کانوں نے بھی ان کی خوشی کی آواز سنی یعنی ہوا کے اندر اس قسم کی خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی کہ میرے کانوں نے اسے سنا۔وہ لوگ پیار کے بہت بھوکے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ایسی کوئی مخلوق پیدا ہی نہیں ہوئی جو ان سے پیار کر سکے اور یہ ان کے لئے بڑے تعجب کی بات تھی کہ ایک شخص غیر ملک سے آیا ہے اور اس کا صرف یہ دعویٰ اور اعلان ہی نہیں کہ میں پیارا اور محبت کا اسلامی پیغام تمہارے پاس لے کر آیا ہوں بلکہ وہ اپنے عمل سے بھی ثابت کر رہا ہے۔بچوں سے پیار کرتا ہے بڑوں سے معانقہ کرتا ہے اور پھر عورتوں کو بھی بھولا نہیں اور یہ اس لئے کہ منصورہ بیگم میرے ساتھ تھیں میں تو عورتوں سے مصافحہ نہیں کر سکتا تھا لیکن اگر یہ میرے ساتھ نہ ہوتیں اور میرے کام میں میرے ساتھ اتنا تعاون نہ کرتیں تو وہاں کی مستورات کی روحانی طور پر سیری نہ ہوتی۔انہوں نے بھی ایک دفعہ ایک وقت میں چھ ہزار سے زیادہ عورتوں کے ساتھ مصافحے کئے ہیں۔ان کی مستورات کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے اس طرح روحانی مسرت اور روحانی سیری کا سامان پیدا کر دیا۔پس بظاہر یہ چھوٹی سی چیز ہے لیکن اپنے اثر کے لحاظ سے چھوٹی نہیں ہے۔اس لئے ہر احمدی کے چہرے پر بشاشت ہونی چاہیئے اور خوشی ہونی چاہیئے اور خوش ہونے کا حق دراصل ہمیں ہی حاصل ہے اور کسی کا خوش ہونے کا حق نہیں ہے۔یہ خوش ہونے کا حق احمدی کا ہے۔پس اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑتی رہنی چاہیئے۔بہت سے