مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 21
21 فرموده ۱۹۶۶ء دومشعل راه جلد دوم ربوه ۲۳،اکتوبر ۱۹۶۶ ء سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے سالانہ اجتماع میں جو اختتامی تقریر فرمائی وہ ذیل میں درج کی جاتی ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا۔إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (فاطر: ١١) اس کے بعد فرمایا:- مجھے ابھی تک بخار کی تکلیف بدستور جاری ہے اور اس وقت بھی سو کے قریب درجہ حرارت ہے۔لیکن چونکہ میرے بھائی اور عزیز اس اجتماع سے اپنی اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق فائدہ حاصل کرنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے اور میرا آپ سے وعدہ بھی تھا کہ میں کچھ اور باتیں بھی آپ کے سامنے بیان کروں گا۔اس کیلئے میں تکلیف ہونے کے باوجود یہاں حاضر ہو گیا ہوں۔میں نے پرسوں بتایا تھا کہ اسلامی تعلیم بڑی وضاحت کے ساتھ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ محض قیل و قال محض لاف وگزاف محض باتیں بنانا انسان کی عزت کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں قائم نہیں کرتا۔نہ اس طرح پر انسان خدا تعالیٰ کا پیارا اور محبوب اور مقرب بن سکتا ہے۔آیت قرآنیہ کا جو ٹکڑا میں نے آپ کے سامنے پڑھا ہے اس میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے۔تم میں سے جو عزت کا متلاشی ہو وہ کان کھول کر سن لے اور یا در کھے کہ تمام عزتیں اور تمام و جاہتیں خدا تعالیٰ ہی کیلئے ہیں۔وہی عزتوں کا سر چشمہ ہے۔اور اسی سے حقیقی عزت کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔دنیا میں انسان بڑوں یعنی صاحب اقتدار اور صاحب وجاہت کی نگاہ میں بعض دفعہ خوشامد کے ذریعہ عزت حاصل کر لیتا ہے بعض دفعہ وہ چاپلوسی کے نتیجہ میں ان کی نگاہ میں محبوب ہو جاتا ہے بعض دفعہ وہ اتنی چرب زبانی سے کام لیتا ہے کہ دنیا دار اور دنیا میں جو بڑا شمار ہوتا ہے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔اور ایک قدر اور منزلت ان لوگوں کی نگاہ میں اس شخص کیلئے پیدا ہو جاتی ہے۔چرب زبانی کا تو یہاں تک اثر ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دوفریق میرے پاس آتے ہیں۔ایک کی زبان بڑی چلتی ہے وہ اپنے مفہوم کو زیادہ اچھی طرح واضح کر سکتا ہے۔دوسرا اپنے مفہوم کو زیادہ اچھی طرح واضح نہیں کر سکتا جو حق پر ہے وہ اپنے حق میں صحیح دلائل بھی اچھی طرح پیش نہیں کر سکتا اور جو ناحق پر ہے وہ غلط دلائل کو بھی یا غلط واقعات کو بھی میرے سامنے ایسے رنگ میں پیش کر سکتا ہے کہ میں اس کی باتوں سے متاثر ہو کر اس کے حق میں فیصلہ دے دیتا ہوں۔لیکن میں محمد رسول اللہ علیہ میں جو خدا تعالیٰ کا محبوب اور پیارا ہوں۔میں جس پر اللہ تعالیٰ کی آخری شریعت نازل ہوئی ہے اگر میرا فیصلہ بھی اس شخص کے حق میں ہوگا تو وہ حق