مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 232
فرموده ۱۹۷ء 232 مشعل راه جلد دوم یہ کوئی معمولی مقام نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی نگاہ میں دیا۔ہم احمدی بسا اوقات اس بات کو بھول جاتے اور دنیا کی الجھنوں میں پھنس جاتے ہیں۔اگر ہمیں یہ احساس ہو اگر ہمارے دل اس بات پر یقین رکھتے ہوں کہ ہم نبی اکرم کے اس روحانی فرزند کی طرف منسوب ہونے والے ہیں جو امت محمدیہ میں ایک فرد یکتا تھا تو ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگ جائیں۔ہر نسل کو ایک انقلاب پہنی میں سے گزرنا ضروری ہے۔اس کے بغیر محبت پیار، مساوات کا پیغام ایک نسل سے دوسری کی طرف منتقل نہیں ہو سکتا۔ہمارے نوجوان کو یہ احساس ہونا چاہیئے کہ ایک عظیم ذمہ داری اُس کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے اور وہی اس کا ذمہ دار ہے۔دوسروں کی طرف نہ دیکھے بلکہ ہر شخص اپنی طرف دیکھے اور یہ سمجھے کہ وہی اس بات کا ذمہ دار ہے کہ نبی اکرم کے عظیم پیغام کو دنیا تک پہنچائے۔اگر یہ احساس پیدا ہو جائے اور یہ احساس تبھی پیدا ہوسکتا ہے اگر ہم یہ سمجھیں کہ ہم اس عظیم روحانی فرزند کی طرف منسوب ہونے والے ہیں جس اکیلے نبی کریم ﷺ نے اپنے سلام کے لئے چنا۔اگر تمام نو جوانوں میں یہ احساس پیدا ہو جائے تو ہم جو بڑی عمر کے ہیں ان کی فکر دور ہو جاتی ہے اور ہم اس یقین کے ساتھ اس دنیا سے جائیں گے کہ ہمارے بعد کوئی خلا پیدا نہیں ہوگا بلکہ اس نسل کے بعد اگلی نسل ہم سے بہتر طور پر اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے والی ہوگی۔پس بڑوں، چھوٹوں، مردوں، عورتوں سب پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ انتہائی کوشش کر کے اسلام اور احمدیت کو دنیا میں غالب کریں۔افریقہ احمدیت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے صلى الله جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس وقت افریقہ احمدیت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایک تبدیلی پیدا کی ہے۔احمدیت سے ان کا پیار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کا عشق صلى الله اس وجہ سے ہے کہ حضرت مسیح موعود کی بدولت انہوں نے حضرت محمد ﷺ کا نور اپنی زندگیوں میں مشاہدہ کیا اور اُس پیار کو دیکھا جو سمندر کی طرح تمام بنی نوع انسان کے لئے حضرت رسول کریم صلعم کے سینہ میں موجیں مار رہا تھا۔متعدد مقامات پر جب میں نے ان کو یہ کہا کہ صرف تھیوری کے طور پر نہیں بلکہ نبی اکرم اللہ نے عملاً تمہارے اور غیر کے درمیان مساوات کو قائم کیا ہے۔اور میں نے انہیں بتایا کہ کس طرح فتح مکہ کے موقع پر آپ نے ایک جھنڈا تیار کیا اور اس جھنڈے کا نام بلال کا جھنڈا رکھا اور سرداران مکہ میں اُن کو اُن کی زبان میں کہا کرتا تھا (Paramount Chiefs Of Mecca) سے کہا کہ تم اسے غلام سمجھتے تھے اور حقیر جانتے تھے۔تم اس کے رنگ کو دیکھتے تھے اور دل کے نور کو نہیں پہنچانتے تھے۔تم نے اسے ذلیل سمجھا اور ہزار قسم دیکھ اسے پہنچائے۔ایسے ایسے دکھ کہ جن کے تصور سے بھی ہمارے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں آج میں یہ جھنڈا بلال کا جھنڈا کھڑا کرتا ہوں اور تمہیں یہ کہتا ہوں کہ انسان اور انسان میں کوئی فرق نہیں ہے اگر آج تم اپنی جان کی حفاظت اور اپنی عزت کی امان چاہتے ہوں تو اس جھنڈے کے نیچے جمع ہو جاؤ۔کتنا عظیم مظاہرہ تھا مساوات انسانی کا۔اور جب میں دس