مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 231
231 فرموده ۱۹۷۰ء د و مشعل راه جلد دوم دد احمدی نے آگے ہی آگے بڑھنا ہے ہم نے جواحدی ہیں ساری دنیا سے آگے بڑھ جانا ہے یا یوں کہو کہ ساری دنیا کو ساتھ لے کر آگے ہی آگے ڑھتے چلے جانا ہے۔پہلے ہم آہستہ چلا کرتے تھے۔مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ دوڑنے کا وقت آ گیا ہے۔ہمیں ارنى حقائق الاشیاء کی دعا سکھائی گئی ہے۔یعنی اے خدا ہمیں ” حقائق زندگی کا علم اور شناخت عطا کر۔اگر ہم حقائق زندگی کو سمجھیں تو یہ بات سمجھنی مشکل نہیں کہ دنیا اس وقت محبت پیار ہمدردی، غمخواری اور مساوات کے پیغام کی پیاسی ہے اور صرف ہم ہی ان کی پیاس کو بجھا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فرشتے جس رنگ میں دلوں میں تبدیلی پیدا کر رہے ہیں اسے دیکھ کر انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔میں نے شاید پہلے بھی بتایا تھا کہ نائیجیریا میں ان ہزاروں احمدیوں کے علاوہ جن سے میں نے ملاقات کی سڑکوں کے کناروں پر بلا مبالغہ ۵۰٬۰۰۰ سے ایک لاکھ تک عیسائیوں کو خوشی سے اچھلتے اور ناچتے ہوئے میں نے دیکھا ہے وہ ہمیں دیکھ کر اپنے طریق پر خوشی کا اظہار کرنے لگ جاتے تھے۔ایسا کیوں کرتے تھے شاید انہیں بھی معلوم نہ ہو لیکن ہمیں معلوم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ وعدہ دیا ہوا ہے کہ آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے اور لوگوں کے دلوں میں اللہ اور محمداور محمد کے عظیم فرزند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت پیدا کریں گے۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایک عارف کی دُعا عارفانہ ہوتی ہے لیکن وہ لوگ جو خدا کو نہیں پہچانتے وہ بھی علوم کے میدانوں میں آگے بڑھتے ہوئے ایک ایسے مقام پر پہنچتے ہیں کہ اندھیرے کی دیوار ان کے سامنے آجاتی ہے اور آگے بڑھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔تب وہ ایک غیر مرئی طاقت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس وقت اللہ تعالیٰ باوجود اس کے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ لوگ مجھے شناخت نہیں کرتے لیکن اس لئے کہ اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں اور اپنی طاقت کے علاوہ کسی اور غیر مرئی طاقت سے نصرت حاصل کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں وہ اسی کو دعا سمجھتا ہے اور اس دعا کو قبول کرتا ہے۔اس طرح روشنی ان پر ظاہر ہو جاتی ہے اور علوم کے دروازے ان پر کھل جاتے ہیں۔پس اگر چہ وہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ کیوں خوش ہوئے مگر ہمیں معلوم ہے کہ وہ کیوں خوش ہوئے۔ان کے درمیان نبی کریم علیہ کے عظیم روحانی فرزند کا نائب اور خلیفہ موجود تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام نہیں - بھولنا چاہیئے۔جسے دیکھ کر وہ خوشی کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔حضرت مسیح موعود کا مقام جو نبی اکرم علی اللہ نگاہ میں ہے وہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیئے۔نبی کریم صلعم کو اللہ تعالیٰ نے کوثر کا وعدہ دیا تھا اور اس وعدہ کو پورا کیا۔اس وقت سے لے کر اس وقت تک اربوں ارب انسان اس بات پر فخر کرتے رہے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی غلامی صلى الله میں ہیں اور خدا جانے کتنے ارب انسان قیامت تک پیدا ہوں گے جن کو اس بات پر فخر ہوگا کہ وہ نبی کریم علیہ کی طرف منسوب ہورہے ہیں۔ان تمام اربوں ارب انسانوں میں سے نبی کریم ﷺ نے صرف ایک روحانی فرزند کو منتخب کیا اور اپنی اُمت سے کہا کہ تم میں سے جس کو بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے اور وہ اُس کا زمانہ پائے تو میرا سلام اُسے پہنچانا۔ساری امت محمدیہ میں سے صرف ایک کا انتخاب کیا اور اسے سلام پہنچانے کی تاکید کی۔