مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 19 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 19

19 فرموده ۱۹۶۶ء ود مشعل راه جلد د دوم الاحمدیہ میں شامل ہو چکے ہیں یعنی ان کے عمریں سات سے پندرہ سال تک کی ہیں۔اگر وہ مہینہ میں ایک اٹھنی وقف جدید میں دیں تو جماعت کے سینکڑوں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن پر ان بچوں کی قربانی کے نتیجہ میں کوئی ایسا بار نہیں پڑے گا کہ وہ بھو کے رہنے لگ جائیں۔رہے وہ غریب خاندان جن کے دلوں میں نیکی کرنے اور ثواب کمانے کی خواہش پیدا ہو لیکن ان کی مالی حالت ایسی نہ ہو کہ ان کا ہر بچہ اس تحریک میں ایک اٹھنی ماہوار دے سکے تو ان لوگوں کی خواہش کے مد نظر میں ان کے لئے یہ سہولت پیش کر دیتا ہوں کہ ایسے خاندان کے سارے بچے مل کر ایک اٹھنی ماہوار اس تحریک میں دیں اس طرح اس خاندان کے سارے بھائی اور بہنیں ثواب میں شریک ہو جائیں گی۔لیکن یہ رعایت صرف ان خاندانوں کیلئے ہے جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں لیکن باطنی اور ایمانی لحاظ سے ان کے دل روشن اور مضبوط ہیں اور ان کے بچوں کے دلوں میں یہ خواہش ہے کہ کاش ہماری مالی حالت ایسی ہوتی کہ ہم میں سے ہر ایک اٹھنی ماہوار اس تحریک میں دے سکتا اور ہم ثواب سے محروم نہ رہتے۔ان کی ایسی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ سہولت دی ہے کہ وہ سب بچے مل کر ایک اٹھنی ماہوار اس تحریک میں دیں۔اب سال کا بہت تھوڑا حصہ باقی رہ گیا ہے اگر احمدی بچے اس موقعہ پر پچاس ہزار روپیہ پیش کر دیں تو وہ دنیا میں ایک بہترین نمونہ قائم کرنے والے ہوں گے اور اس طرح ہماری وہ ضرورت پوری ہو جائے گی جو اس وقت اعلائے کلمتہ اللہ اور جماعت کی مضبوطی، اس کی تربیت اور تعلیم کے نظام کو مستحکم کرنے کیلئے ہمارے سامنے ہے اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کو نماز کی عادت ڈالنے کیلئے ان کی نماز کی بلوغت سے پہلے نماز پڑھانے کی ہمیں تلقین کی ہے۔اسی طرح ان مالی قربانیوں کیلئے جو فرض کے طور پر ایک احمدی پر عائد ہوتی ہیں۔اس فرض کے عائد ہونے سے پہلے ہمارے بچوں کی تربیت ہو جائے گی اور جب وہ فرض ان پر عائد ہوگا تو وہ خوشی اور بشاشت سے مالی جہاد میں شامل ہوں گے اور اس فرض کے ادا کرنے میں وہ کوئی کمزوری نہ دکھائیں گے کیونکہ ان کی طبیعتوں میں بچپن سے ہی یہ بات راسخ ہو چکی ہوگی کہ جہاں ہم نے خدا اور اس کے رسول کیلئے دوسری قربانیاں کرنی ہیں وہاں ہم نے خدا اور اس کے رسول کے لئے مالی قربانیاں بھی دینی ہیں۔خدا تعالیٰ کی فوج کے ننھے سپاہی غرض ایک بچہ جب اٹھنی دے رہا ہوگا یا جب بعض خاندانوں کے سب بچے باہم مل کر ایک اٹھنی ماہوار وقف جدید میں دے رہے ہوں گے تو یہ ایک لحاظ سے ان کی تربیت ہوگی اس طرح ہم ان کے ذہن میں یہ بات بھی راسخ کر رہے ہوں گے کہ جب خدا تعالیٰ کسی کو مال دیتا ہے تو وہ مال جو اس کی عطا ہے بشاشت سے اسی کی طرف لوٹا دینا اور اس کے بدلہ میں ثواب اور اس کی رضا حاصل کرنا اس سے زیادہ اچھا سودا دنیا میں اور کوئی نہیں۔پس اے احمدیت کے عزیز بچو! اٹھو اور اپنے ماں باپ کے پیچھے پڑ جاؤ اور ان سے کہو کہ ہمیں مفت میں ثواب مل رہا ہے۔آپ ہمیں اس سے کیوں محروم کر رہے ہیں۔آپ ایک اٹنی ماہوار ہمیں دیں کہ ہم اس فوج میں شامل ہو