مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 207
207 فرموده ۱۹۶۹ء دومشعل راہ جلد دوم بتا دیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں ہر غلطی سے چھڑوا دیا اور ہر نیکی کی رغبت ہمارے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کی۔ایک وقت میں ایک غلط خیال تھا اور لوگ سمجھتے ہی نہیں تھے آپ نے کھڑے ہو کر بے شمار اعتقادی غلطیوں کو دور کیا۔لوگ سمجھتے تھے کہ ہم مصیبت کھڑی کر رہے ہیں۔وفات مسیح صلى الله الله آپ نے فرمایا حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔یہ چھوٹا سا فقرہ ہے لیکن عظیم اثرات کا حامل تھا۔پھر آپ نے بہت کچھ سیکھا ہے آپ کی اس بارے میں تعلیم کو میں یوں بیان کر سکتا ہوں کہ ہم نے انسانی تاریخ پر نگاہ کی اور ہم نے دیکھا کہ اس ساری انسانی تاریخ میں کوئی ایک آدمی بھی ایسا پیدا نہیں ہوا۔پھر ہم نے اپنے دلوں کو ٹولا۔اپنے دل میں آنحضرت ﷺ کی وہ محبت پائی کہ ہمارے دل نے کہا کہ میں مان نہیں سکتا کہ حضرت محمد مصطفی ملے تو فوت ہو جائیں اور حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہوں۔پھر ہماری عقل نے دل کو کہا کہ کہیں یہ جذباتی خیال نہ ہو فراست بھی خدا تعالیٰ نے دی ہے اس سے بھی کام لو۔اور قرآن کریم میں اس کی حقیقت ڈھونڈ و۔پھر قرآن کریم کے اس نکتے کو سمجھنے کے لئے عقل اور فکر و تدبر سے کام لیا گیا تو قرآن کریم کی بڑی واضح اور بیسیوں آیات ایسی ملیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ یہ بتارہی تھیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔پھر دل نے عقل سے فراست سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم ہی کی تعلیم نہیں دی بلکہ حضرت نبی اکرم ہے کے ارشادات اور آپ کے اسوہ حسنہ کی اتباع کرنا بھی ضروری قرار دیا ہے۔پھر عقل اور فراست اور فکر وتدبر نے حضرت نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر غور کیا اور آپ کے ارشادات کا مطالعہ کیا تو وہاں بھی یہی دیکھا کہ آپ کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ میں بھی اس دن حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح یہی کہوں گا کہ جب تک میں زندہ تھا ان لوگوں کی تربیت کی ایک حد تک ذمہ داری مجھ پر تھی لیکن اے ہمارے رب جس طرح عیسی نے کہا تھا کہ میرے فوت ہو جانے کے بعد پھر میری ذمہ داری نہیں رہتی اسی طرح میں یہ کہتا ہوں کہ تو نے جب مجھے اپنے پاس بلایا تو میرے بعد میرے صحابہ سے کوئی خراب ہو گئے تو یہ ان کی اپنی بدقسمتی تھی۔میری تعلیم پر کوئی حرف نہیں آتا۔پس جس رنگ میں بھی ہم نے غور کیا اور تعلیم کا مطالعہ کیا ہم نے یہی پایا کہ آنحضرت ﷺ ہی زندہ ہیں اور آپ کے مقابلے میں کوئی اور زندہ نہیں ہے۔کتب حضرت مسیح موعود قرآن کی تفسیر ہیں پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلامی تعلیم کو بڑی خوبی اور بڑے حسن اور بڑی وضاحت سے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔مگر ایسے نوجوان جو اس خزانے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو توجہ دلائیں اور بتائیں کہ یہ وہ تعلیم ہے جسے آپ نے پیش کیا ہے۔یہ وہ قرآن کریم کی تفسیر ہے جسے آپ نے بیان