مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 190 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 190

فرموده ۱۹۶۹ء 190 د دمشعل کل راه جلد دوم میں اپنے دائرہ استعداد کے اندر بڑے اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔یورپین اقوام نے اپنے بچوں کے متعلق ایک یہ نیا تجربہ کیا ہے کہ اس چھوٹی عمر میں حافظہ اتنا اچھا ہوتا ہے کہ اگر ایک ہی وقت میں چھوٹے بچے کو جو کہ ابھی اطفال الاحمدیہ کی تنظیم میں شامل بھی نہیں ہوا ہوتا مثلا دو اڑھائی سال کا ہوتا ہے۔ابھی اس نے اپنی توتلی زبان میں کچھ نہ کچھ الفاظ بولنے شروع کئے ہوتے ہیں اس وقت اگر دو یا تین یا چار زبانیں بیک وقت سکھانی شروع کر دیں تو حافظہ پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔اردو فارسی، انگریزی اور عربی بولنی شروع کر دے گا۔لیکن چونکہ گھر میں ایسا انتظام نہیں ہوتا وہ بے چارہ اپنی طاقت کے استعمال اور اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہتا ہے۔پس آپ کی یہ عمر حافظہ کی عمر ہے۔اس عمر میں حافظہ بڑا اچھا ہوتا ہے۔سوائے اس کہ کے بعض بچے پیدائشی لحاظ سے کند ہوتے ہیں یا بعد میں کسی بیماری کی وجہ سے ان کا حافظ متاثر ہوتا ہے لیکن یہ استثناء ہوگی عام طور پر بچے اس عمر میں بڑا اچھا حافظہ رکھتے ہیں۔اس لئے بچوں کی اس طاقت اور استعداد کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیئے یہ متن میرے مشورہ کے ساتھ دسمبر کے آخر تک تیار ہو جانا چاہیئے اور اگلے سال تک آپ نے اس کو فر فر زبانی یاد کر لینا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق قرآنی آیات کو۔حضرت نبی اکرم عہ کے مقام کے متعلق۔قرآن کریم کی عظمت کے متعلق۔اسلام کی حقانیت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو مقام آنحضرت معاوہ کے ایک عظیم روحانی فرزند ہونے کی حیثیت میں ہے اس کے متعلق مختصر حوالے آپ کو زبانی یاد ہونے چاہئیں۔آپ ان سے استدلال نہیں کر سکیں گے اور نہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کوئی استدلال کریں۔لیکن جب میں یہ کہتا ہوں کہ آپ کوئی استدلال نہیں کر سکیں گے تو آج کے بچے کی بات کر رہا ہوں۔اگر قرآن کریم حفظ ہوتو بڑے ہو کر استدلال کرنا آسانی سے آسکتا ہے آپ میں سے (اللہ تعالیٰ سب کو زندگی عطا کرے) ہر ایک جب بڑی عمر کو پہنچے گا تو اس کے ذہن میں آیات ہوں گی یا دوسری دلیلیں ہوں گی۔کتاب دیکھنے کی اسے ضرورت نہیں ہوگی۔ان سے وہ خود بخود بڑی آسانی سے استدلال کرنا سیکھ جائے گا۔کیونکہ اس نے ایک وقت میں ایک چیز سیکھنی ہے۔اللہ تعالیٰ کا منشاء بھی یہی ہے کہ ایک وقت میں صرف حافظہ کام کر رہا ہو اور دوسرے وقت میں حافظہ کے ساتھ ذہانت اور فراست بھی کام کر رہی ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے اس قانون کے مطابق حافظہ کی اس عمر سے پورا پورا کام لینا چاہیئے۔(اس اثناء میں ایک بچہ پیچھے دیکھ رہا تھا۔حضور نے فرمایا اے بچے! پیچھے کیا دیکھتے ہو۔تمہارے پیچھے دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ویسے اصولاً بھی نہیں کیونکہ انسان کے سامنے دلچسپیاں ہیں جو ماضی میں کھو جاتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ہم نے مستقبل بنانا ہے اپنا نہیں اسلام کا اس واسطے ہماری نگاہ ہمیشہ آگے رہنی چاہیئے پیچھے نہیں جانی چاہیئے۔پس یہ آج کا پروگرام ہے کہ آپ میں سے ہر احمدی بچہ (اور جو یہاں حاضر نہیں ہے وہ آپ کے ذریعہ یہ