مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 16
دومشعل دوم فرموده ۱۹۶۶ء 16 تربیتی کلاس کے طلباء کو حضور کی نصائح دعا سے پہلے جو کچھ میں نے کہا ہے۔وہ دراصل دعا کا ہی ایک حصہ تھا۔اب میں مختصر اردو ایک باتیں کہنا چاہتا ہوں۔پہلی بات یہ ہے کہ آپ لوگ ایک خاص مقصد کے لئے باہر سے تشریف لائے ہیں۔آپ یہ کوشش کریں۔کہ ان دنوں میں آپ اپنا کوئی لحہ بھی ضائع نہ کریں اور اپنے اوقات عزیزہ کو فضول خرچ نہ کریں۔معمور اوقات زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔اور زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔کہ علم جو محض علم کی حد تک ہو۔لغو چیز ہے۔قرآن کریم میں انبیائے کرام کی بہت سی مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ان میں سے ہر مثال ایک مسلمان کے لئے سبق مہیا کر رہی ہے۔اور اسے خاص قسم کے اعمال پر ابھار رہی ہے۔آپ نے جو علم حاصل کرنا ہے وہ اس لئے حاصل کرنا ہے۔کہ اللہ سے آپ خود بھی اور آپ سے تعلق رکھنے والے بھی (چاہے وہ اس وقت آپ سے تعلق رکھتے ہیں یا آپ ان سے بعد میں تعلق پیدا کریں گے) فائدہ اٹھا ئیں آپ یہاں تبلیغی اسباق سیکھیں اور اس کے بعد مختلف لوگوں سے نئی دوستیاں پیدا کر کے ان تک ان اسباق کو پہنچائیں۔محض کسی چیز کا سن لینا اور اسے اپنی زندگی پر اثر انداز نہ ہونے دینا بالکل فضول چیز ہے۔علم عمل کے لئے ایک ضروری زینہ ہے۔جو شخص ایسی سیڑھی بناتا ہے جسے وہ استعمال نہیں کرتا۔وہ اپنے مکان کے اس حصہ کو بھی ضائع کرتا ہے اور اپنے روپیہ کوبھی ضائع کرتا ہے۔سو جو علم آپ یہاں سیکھیں وہ اس نیت سے سیکھیں کہ اس سے آپ نے خود بھی آئندہ زندگی میں فائدہ اٹھانا ہے اور اس بات کی بھی انتہائی کوشش کرنا ہے کہ اس سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچتار ہے۔علم کے حصول کے ذرائع علم دو طرح سے حاصل کیا جاتا ہے۔ان میں سے ایک طریق تقاریر ہیں۔تقاریرین کر انسان ایک مجموعی اثر قائم کر لیتا ہے۔لیکن جب اس سے کوئی بات بیان کرنے کو کہا جائے۔وہ بیان نہیں کر سکتا مثلاً وہ احمدی جنہوں نے بیسیوں دفعہ وفات مسیح کے متعلق پیچر سنے ہیں۔ان میں سے نانوے فیصدی ایسے ہوں گے کہ اگر آپ انہیں پیج پر بلا لیں۔تو وہ وفات مسیح کی ایک دلیل بھی تفصیل سے بیان نہیں کر سکیں گے۔لیکن ان کے دماغوں نے قرآنی آیات اور دوسرے حوالہ جات کو سن کر ایک مجموعی اثر قائم کر لیا ہے۔اور سمجھ لیا ہے کہ یہ یقینی بات ہے کہ قرآن کریم حضرت مسیح علیہ السلام کو وفات یافتہ ثابت کرتا ہے۔اور ایک تبلیغی جماعت جو اصلاح وارشاد کی ذمہ داری اٹھانے والی ہو۔اس قسم کے علم پر راضی نہیں ہو سکتی۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ میں سے ہر ایک کو ضروری مسائل کے متعلق کم از کم ایک ایک آیت یا ایک ایک دلیل پوری تفصیل کے ساتھ از بر ہو۔مثلاً وفات مسیح کا مسئلہ ہے۔اس