مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 155
155 فرموده ۱۹۶۹ء دد د و مشعل راه جلد د ، دوم Complex (یعنی الجھن ) نہیں پیدا ہوتی۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔جتنی مجھے پریشانی ہے کسی اور کو تو نہیں ہو سکتی کیونکہ ہر احمدی کی پریشانی میری پریشانی ہے۔جماعتی مسائل میں جن کو حل کرنا پڑتا ہے۔پھر ساری دنیا سے خطوط آتے ہیں جماعتی الجھنیں الگ ہیں۔بعض دفعہ فتنے رونما ہو جاتے ہیں۔بعض سازشیں ہوتی ہیں اور یہ الجھنیں ، فتنے یا سازشیں میرے لئے خوشی کا باعث تو نہیں بنتے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک حساس دل دیا ہے۔وہ تڑپتا ہے بے چین ہوتا ہے۔دعائیں کرتا ہوں۔اس غم کا مداوا جس دَر سے جا کر ہوسکتا ہے اس دَر پر جا کر غم کا اظہار کرتا ہوں لیکن میرے چہرے پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر وقت بشاشت رہتی ہے۔میرے چہرے کو دیکھ کر کوئی شخص یہ کہے گا کہ اسے بھی کوئی دکھ یا غم لاحق ہی نہیں ہوا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے کوئی Complex (الجھن ) نہیں پیدا کی۔مثلاً جب باہر سے کوئی خبر آئے اور میرے دماغ میں یہ کیڑا ہو کہ میں اپنے زور سے اس دوا کا علاج کر سکتا ہوں یا اس الجھن کو دور کر سکتا ہوں تو مجھے بڑی فکر پیدا ہوگی اور میری حالت ایک اور طرح کی بن جائے گی میرے اعصاب پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز سے محفوظ رکھا ہو اور میں ایسے وقت میں یہ سمجھوں کہ صرف اللہ تعالیٰ یہ کام کر سکتا ہے اور اسی سے مجھے مانگنا چاہیے میرا کام ہے کہ جتنا میرے امکان میں ہے اس سے دعا کروں۔پھر مجھے گھبرانے کی ضروت نہیں۔گو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعا کے وقت دعاؤں کے نتیجہ میں اس طرح جواب نہیں ملتا لیکن دل میں ایک تسکین پیدا ہو جاتی ہے اور خود بخود ایک بشاشت کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔پس احساس کے اندر تبدیلی آجاتی ہے۔یعنی وہ آواز کان کو تو نہیں پہنچتی بلکہ اس حس کو پہنچتی ہے جسے کسی غمناک خبر نے پریشان کیا ہوتا ہے۔خبر آتی ہے فلاں آدمی بڑا سخت بیمار ہے۔اور ایسی خبریں ان گنت دفعہ آتی ہیں) پس میں اس کے لئے دعا کرتا ہوں بعض دفعہ چند گھنٹے کے بعد بعض دفعہ ایک دن کے بعد بعض دفعہ دو دن کے بعد دل میں یہ اطمینان پیدا ہو جاتا ہےکہ اللہ تعالیٰ اس پر فضل کرے گا اور وہ ٹھیک ہو جائے گا۔کبھی تو کوئی حادثے کا شکار ہو جاتا ہے چنانچہ دعا کے لئے خط آتا ہے۔میں دعا کرتا ہوں۔میرے دل میں اطمینان ہو جاتا ہے اور اس طرح پریشانی اور تکلیف کا احساس خود بخود ختم ہو جاتا ہے چاہے اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی مجھے اطلاع دو دن یا اس پندرہ یا بیس دن بعد میں آئے۔بعض دفعہ غیر ملکی ڈاک کی وجہ سے اطلاع ملنے میں دیر ہو جاتی ہے لیکن اس قسم کی اطلاع ملنے سے پہلے ہی میرے دل میں اطمینان پیدا ہو جاتا ہے اور دل میں ہر قسم کی ایک تسلی پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر کسی کا کام ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو گیا ہے یا اگر کوئی بیمار ہے تو وہ الہی فضل سے تندرست ہو گیا ہے وغیرہ۔اللہ تعالیٰ صرف احساس کی تاروں کو چھیڑتا ہے۔کان میں بھی تو اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز سنائی دیتی ہے۔چنانچہ صوتی لہریں پیدا ہو جاتی ہیں جنہیں دوسروں کے کان نہیں سنتے۔مگر ایک شخص ہے جس کے کان سن رہے ہوتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹروں کا یہ دعویٰ کہ کان کا جو ڈرم ہے وہ اس صوتی لہروں کے Belt ( بیلٹ ) میں کام کر رہا ہے اس کے علاوہ نہیں کر رہا یہ غلط ہے جس طرح Amateur (یعنی شوقین) کے لئے رکھے ہوئے براڈ کاسٹنگ مختلف Frequencies ہوتی ہیں۔