مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 132 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 132

فرموده ۱۹۶۹ء 132 د دمشعل را قل راه جلد دوم ضرورت پڑ جائے ( بعض دفعہ مسافروں کو سڑک کے کنارے پر کھانے کی جائز ضرورت پڑ جاتی ہے )۔تو وہ تربوز کھائیں گے تو اس کے چھلکے وہیں سڑک پر پھینک دیں گے۔آم کھائیں گے تو اس کی گٹھلیاں وغیرہ وہیں سڑک پر پھینک دیں گے۔کیلا کھائیں گے تو اُس کے چھلکے وہیں سڑک پر پھینک دیں گے اور بعض دفعہ آٹھ دس منٹ کے بعد کوئی بچہ دوڑتا ہوا وہاں سے گزرے اور کیلے کے چھلکے یا آم کی گٹھلی یا تربوز کے چھلکے پر سے پاؤں پھیلے اور اور تو نے پھیلے اور گرے اور اس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے تو ایسے شخص نے اس سڑک کی خدمت نہیں کی۔نیز اس نے بنی نوع انسان میں سے کسی کو تکلیف پہنچانے کا امکان پیدا کر دیا۔اللہ تعالیٰ بعض دفعہ ایسے لوگوں کو اپنے فضل سے بچا بھی لیتا ہے لیکن اگر کسی ایک شخص کو بھی اس کی وجہ سے دکھ پہنچا تو اپنے رب سے وہ کیا کہے گا کہ میں نے دعویٰ تو کیا تھا کہ میں تیرا خادم ہوں۔لیکن میں نے خدمت کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔پھر جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے۔اس نے ہمیں ہر مخلوق کا خادم بنادیا لیکن چونکہ ہر چیز کو اس نے انسان کے لئے یعنی اس کے فائدہ کے لئے ، اس کے آرام کے لئے اور اس کی قوتوں کی نشو ونما کے لئے پیدا کیا ہے تا کہ وہ اپنے رب کی رضا زیادہ سے زیادہ حاصل کرتا چلا جائے۔اس لئے سب سے بڑا خادم اس نے ہمیں انسان کا بنایا۔جتنے احکام ہمیں قرآن کریم کی تعلیم میں اور نبی کریم ﷺ کے اسوہ اور ارشادات میں نظر آتے ہیں۔ان سب کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ بنی نوع انسان کی خدمت سے ہے۔اگر ہم ہر حکم کو لے کر غور کریں الله تو بات ثابت تو ہو سکتی ہے لیکن اس کے لئے بڑا وقت چاہیے۔ہاں چند مثالیں دی جاسکتی ہیں۔اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے یہ اعلان بھی کیا کہ ساری زمین اور اس کی ساری اشیاء آسمان اور اس کے سارے ستارے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے مسخر کئے ہیں۔پھر اس نے اپنے خادموں اور اپنی طرف ہونے والوں کو بھی کہا کہ تم نے یہ خدمت کرنی ہے اور جو حکم اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں وہ ایسے نہیں۔جو ایک مسلمان میں اور ایک غیر مسلم میں (جہاں تک خدمت کا تعلق تھا) فرق کرنے والے ہوں۔مثلاً اس نے یہ کہا کہ کسی پر بہتان نہیں تراشنا اور اس نے یہ نہیں کہا کہ کسی مسلمان پر بہتان نہیں تراشنا بلکہ اس نے کہا کہ کسی انسان کے خلاف بہتان نہیں تراشنا پھر مثلاً اس نے کہا کہ ظلم نہیں کرنا تو اس نے یہ نہیں کہا کہ اپنے بھائیوں پر ظلم نہیں کرنا۔جیسا کہ بعض دوسرے مذاہب نے اگر سود کی ممانعت کی تو صرف یہ کہا۔کہ اپنے ہم مذہبوں سے سود نہیں لینا۔غیروں کو بے شک لوٹو اور ان کے اموال پر نا جائز قبضہ کرو اور بغیر حق کے ان کے اموال کھاؤ بلکہ اسلام نے یہ کہا کہ ظلم نہیں کرنا اور جب یہ کہا کہ ظلم نہیں کرنا تو ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس سے میرا مطلب صرف یہ نہیں کہ مسلمان پر ظلم نہیں کرنا۔بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان پر ظلم نہیں کرنا اور جب اسلام نے سود کی ممانعت کی تو اس نے یہ نہیں کہا مسلمان سے سود نہیں لینا ہاں یہودی سے سود لینا جائز ہے یا ہندو سے سود لینا جائز ہے۔بلکہ یہ کہا کہ یہودی ہو یا عیسائی یا ہندو ہو یاد ہر یہ ہو جواللہ تعالیٰ کو برا کہنے والا ہو۔تم نے ان میں سے کسی سے بھی سود نہیں لینا تم نے کسی انسان سے سود نہیں لینا پھر جب اس نے یہ کہا کہ اگر کوئی بھوکا تمہیں نظر آئے تو تم پر یہ ذمہ داری ہے کہ تم اسے کھانا