مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 131 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 131

131 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم اور پیار کے ساتھ کام کرے گا۔پھر وہ تنخواہ بھی اسے دوسروں سے زیادہ دیتا ہے۔اس کے کپڑوں کا بھی وہ خیال رکھتا ہے۔اس کے بچوں کے کھانے اور پڑھائی کا بھی وہ خیال رکھتا ہے۔اسی طرح اس کے جو دوسرے خادم ہیں ان - ن سے بھی وہ کام لیتا ہے۔لیکن ان لوگوں کی نسبت جو اس سے کم دولت مند ہیں۔اپنے خادموں سے زیادہ پیار کرتا اور ان کا زیادہ خیال رکھتا ہے۔اب دیکھو! آپ لوگ اللہ اور اس کے دین کے خادم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر اور مجھ پر کہ میں بھی اس کا ایک ادنیٰ خادم ہوں۔بہت سی ذمہ داریاں ڈالی ہیں۔جو دنیا دار شخص ہے وہ تو اپنے خادم سے ظاہری پاکیزگی اور صفائی کی توقع رکھتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے خدام سے نہ صرف ظاہری بلکہ باطنی صفائی اور پاکیزگی اور طہارت کی امید رکھتا ہے اور جو اللہ کا خادم ہو وہ اس کی ساری مخلوق کا خادم ہے اور بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں جو اس خدمت کی ہم پر ڈالی گئی ہیں۔مثلاً ہم صرف انسان کے خادم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے خادم ہونے کی حیثیت سے ہم ان کے بھی خادم ہیں جو انسان نہیں بلکہ جو جاندار بھی نہیں۔مثلاً ہمیں خدا نے کہا کہ اگر تم میرے خادم بننا چاہتے ہو تو تمہیں درختوں کے خادم بننا پڑے گا اور اسی نے حکم دیا ہے کہ پھلدار درختوں کو کائنا نہیں۔ان کی ٹہنیوں کو توڑنا نہیں۔ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا۔پھر سب درختوں کے اندر نشو ونما بڑھنے ، پھلنے اور پھولنے کی اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کی جو طاقت اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے۔اس طاقت کے نشو و نما میں ان کا ہاتھ بٹانا اور ان کی خدمت کرنا ہے۔اسلام میں اس بات کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔ایک دفعہ ایک جنگ کے موقعہ پر مسلمانوں کی جانیں بچانے کے لئے رسول کریم ﷺ کو گنتی کے چند درخت کاٹنے پڑے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کو اتنی اہمیت دی کہ قرآن کریم میں یہ ذکر کیا کہ وہ درخت میرے حکم سے کاٹے گئے تھے تا دنیا اور دنیوی نگا ہیں محمد ﷺ پر یہ اعتراض نہ کریں کہ خدا کے حکم کے بغیر اور خدا کی مرضی کے خلاف آپ نے ان درختوں کو کاٹ دیا۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ نے درختوں کا بھی جو غیر جاندار ہیں خادم بنایا ہے۔پھر سڑکیں ہیں آپ کو اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے ان سڑکوں کا بھی خادم بنایا ہے۔اور کہا ہے کہ اگر تم میرے خادم بنا چاہتے ہو تو تمہیں سڑکوں کی خدمت بھی کرنی پڑے گی۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ راستوں پر سے گندگی اور تکلیف پہنچانے والی چیزوں کو پرے ہٹادینا بھی ایمان کا ایک جزو ہے اور جوایسا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالی کی رضا کو حاصل کر لیتا ہے، کیونکہ وہ اس کے حکم سے اور اس کی منشاء کے مطابق اور اس کو خوش کرنے کے لئے سڑک کی خدمت میں لگ گیا۔ماحول کی صفائی اب آپ اپنے ماحول میں دیکھیں کہ کتنے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو جانتے سمجھتے اور پھر اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اور اس گندے ماحول میں ہمارے بہت سے احمدی خدام بھی ایسے ہوں گے جن کو یہ خیال نہیں آتا ہو گا کہ سڑک پر کوئی تکلیف دہ چیز نہ پھینکیں۔اوّل تو سڑک پر کھانا پسندیدہ نہیں۔لیکن اگر کہیں