مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 116 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 116

فرموده ۱۹۶۸ء 116 د و مشعل راه جلد دوم جائے اس وقت تک حقوق العباد میں سے جو پہلا حق نفس کا حق ہے۔اسے ہم پورا نہیں کر سکتے اور جب تک ہم یہ حقوق پورے نہ کریں ہم الامین نہیں کہلا سکتے اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں الامین بنے بغیر ہم اس کے فضلوں اور انعاموں کے وارث نہیں بن سکتے۔پھر حقوق العباد میں سے معاملات کی ذمہ داری ہے معاشرہ کی ذمہ داریاں ہیں۔اور شہری ذمہ داریاں ہیں۔جب میں نے کراچی میں خدام کو خطاب کیا تھا تو اس وقت میں نے شہری ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی تھی۔میری یہ تقریر انشاء اللہ چھپ جائے گی۔معاملات کے حقوق میں سے بیع وشراء کے حقوق ہیں۔اس بارہ میں اسلام کی نظر باریکیوں میں گئی ہے اور اس نے ہمیں پاک رکھنے کے لئے اور ہمیں الامین بنانے کے لئے ہر اس راہ کو بند کر دیا ہے جس پر چل کر انسان بھٹک جاتا ہے اور الامین نہیں رہ سکتا اور اس طرح بند کیا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔تول پورا کرنا۔ملاوٹ نہ کرنا وغیرہ موٹی موٹی برائیاں تھیں اور ان سے اسلام سے پہلے انبیا علیہم السلام نے بھی اپنی امتوں کو منع کیا تھا لیکن اسلام بہت باریکی میں گیا ہے۔اگر ہم نے اسلام کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق معاملات اور معاشرہ کی ذمہ داریوں کو نباہنا ہے تو ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اسلامی تعلیم پر تفصیل سے عبور حاصل کرنے کی کوشش کریں یا اگر یہ مکن نہ ہو اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ ایسا کرنا بعض احمدیوں کے لئے ناممکن ہے ) تو ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کی باتوں کو تسلیم کریں جو اسلامی تعلیم پر ایک حد تک عبور حاصل کر چکے ہیں مثلاً اگر انہیں جماعت کا امیر یا کوئی عہدیدار کسی طرف توجہ دلاتا ہے تو انہیں اس کی اطاعت کرنی چاہیئے اور اس کی بات کو تسلیم کر لینا چاہیئے اور دین العجائز کو اختیار کرنا چاہیئے۔اس وقت تک میں نے ذمہ داریاں بیان کی ہیں یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد ایک تیسری ذمہ داری اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے یہ بیان ہوئی ہے کہ انسان رسول کی امانت میں خیانت نہ کرے۔اس ذمہ داری کے متعلق میں مختصر ابتا دیتا ہوں کہ یہاں اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی سنت کو قائم کیا جائے میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی امانت جیسا کہ آیت إِنَّا عَرَضْنَا الْآمَانَةَ عَلَى السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا (الاحزاب : ۷۳) میں بیان کیا گیا ہے اللہ تعالی کی تو حید اور اس پر پختگی سے قائم ہونا اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی استعدادوں اور قوتوں کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں پر استعمال کرنا ہے اور آپس کی اور باہمی امانتیں یہ نہیں کہ کسی نے آپ کو پانچ روپے دئے تھے اور وہ آپ نے واپس کر دیئے بلکہ ہر وہ چیز جس میں خیانت کی جاسکے اس میں خیانت نہ کرنا امانت کے اندر آجاتا ہے کیونکہ خیانت کا لفظ عربی زبان میں امانت کی نفیض کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔پس تیسری چیز جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی امانت میں خیانت نہ کرو رسول کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں قرآنی احکام کا عملی نمونہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے اس لئے اتباع سنت اور اجرائے سنت ضروری ہے جو شخص اس کا خیال نہیں رکھتا وہ رسول کی امانت میں خیانت کرنے والا ہے اور وہ الامین نہیں اور ہم خدام کو ہر سہ معنی میں الامین دیکھنا چاہتے ہیں اور اس یقین اور معرفت پر کھڑے ہیں