مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 115
115 فرموده ۱۹۶۸ء دو مشعل راه جلد د دوم ایک بنیادی حق یہ ہے کہ ہدایت پر اپنے نفس کو قائم رکھو۔اور اس کا ذکر بعد میں اس لئے آیا ہے کہ ہر حق کی ادائیگی کے لئے اور ہر ذمہ داری کو نباہنے کے لئے قوت کی ضرورت ہے۔بعض لوگ نفس کے کمزور ہوتے ہیں اور وہ نفس کی بدخواہش کو دبا ہی نہیں سکتے۔انسان کو کوشش کر کے یہ عادت ڈالنی چاہیئے کہ وہ ہوائے نفس، یعنی نفسانی خواہشات پر غالب رہے۔اللہ تعالیٰ کے جو مقرب بندے گزرے ہیں ان میں تمہیں نمایاں طور پر یہ صفت نظر آتی ہے کسی چیز کے ساتھ کوئی لگاؤ نہیں یہ نہیں کہ اگر کسی خادم کو دودھ پینے کی خواہش پیدا ہو تو چاہے چرا کر دودھ پیا جائے ، پیئے۔نفس کی غلامی انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔اگر انسان اپنی خواہشات کو دبا نہیں سکتا اور نفس کا غلام بنا رہتا ہے تو وہ الامین نہیں رہتا۔دوسرا حق ( حقوق العباد میں سے) جو میرے نزدیک نفس ہی کا حق ہے یہ ہے کہ اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھایا جائے اگر چہ صحیح اخلاق، نیک اخلاق، اچھے اخلاق اور احسن اخلاق دکھانے کا اثر غیر پر بھی پڑتا ہے لیکن سب سے بڑا اثر ان کا اپنے نفس پر پڑتا ہے۔انسان کو عزت نفس اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اخلاق کے بلند مقام پر نہ کھڑا ہو کیونکہ عزتوں کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور حقیقی عزت وہی ہے جو انسان اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں حاصل کرے۔اگر کوئی شخص اخلاق فاضلہ پر مضبوطی سے قائم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ معزز بن جاتا ہے تبھی وہ اپنی نگاہ میں معزز بنے گا۔اور نفس کا ایک حق یہ بھی ہے کہ جسم کو پاکیزہ رکھا جائے جسم پر کوئی گندگی نہ ہو یہ بات صحت جسمانی میں آجاتی ہے اور ماحول کو صاف رکھنا وقار عمل میں آجاتا ہے۔پھر روح کی پاکیزگی ہے۔یہ بھی بڑی ضروری چیز ہے اور روح کی پاکیزگی میں پہلے نمبر پر خیالات کی پاکیزگی ہے اور یہ بڑی ضروری چیز ہے بعض لوگ ویسے برائی نہیں کرتے لیکن ان کے خیالات زیادہ پاکیزہ نہیں ہوتے وہ پراگندہ ہوتے ہیں۔بعض دوست ان پراگندہ خیالات کا ذکر اپنے دعائیہ خطوط میں بھی کر دیتے ہیں۔روزانہ ڈاک میں ایک آدھ خط ایسا بھی آجاتا ہے جس میں پراگندہ خیالات کا ذکر ہوتا ہے میں اسے پسند نہیں کرتا کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کی پردہ پوشی کرتا ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ خود بھی اپنی پردہ پوشی کرے۔بہر حال روح کی پاکیزگی کے لئے ضروری ہے کہ انسان کے خیالات پاکیزہ ہوں۔مثلا ایک شخص کسی مجلس میں بیٹھ کر خلافت پر اعتراض کرتا ہے اور جب اسے ٹو کا جاتا ہے تو کہتا ہے دیکھو میں تو ہمیشہ اطاعت کرتا ہوں۔مجھے جب بھی کوئی حکم ملتا ہے میں اس کی تکمیل کرتا ہوں لیکن میں کہوں گا کہ اگر تم اطاعت کرتے ہو تب بھی تم اپنے آپ کو ایک خطرہ میں ڈال رہے ہو۔کیونکہ تمہارے خیالات پاکیزہ نہیں اور روح اس وقت تک پاکیزہ نہیں ہو سکتی جب تک خیالات پاکیزہ نہ ہوں۔اس لئے خدام الاحمدیہ میں ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کو کپیں مارنے یا سینمادیکھنے کی عادت نہ پڑے ہر وہ چیز جو خیالات کو پاکیزہ نہیں رہنے دیتی۔اس سے بچنا ہمارے لئے ضروری ہے۔اس کے بغیر روح پاکیزہ نہیں رہ سکتی اور جب تک روح پاکیزہ نہ ہو اور روح کو پاکیزہ رکھنے کی کوشش نہ کی