مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 107
107 فرموده ۱۹۶۸ء دومشعل راه جلد دوم مجلس خدام الاحمد یہ مرکز یر کےسالانہ اجتماع ۱۸ اکتو بر ۱۹۲۸ء کے افتتاح کے موقعہ پر حضرت خلیفة اصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی ایمان افروز تقریر تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔كُنتُمْ خَيْرٌ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ المُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا مَنْ أَهْلُ الكتب لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ، مِنْهُمْ الْمُؤْمِنُونَ وَاكْثَرُهُمُ الْفَسِقُوْنَ ان خير من استأجرت القوي الأمين (آل عمران: ۱۱۱) (القصص: ۲۷) أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (البقرہ: ۱۶۶) يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا آمَنَتِكُمْ وَ انْتُمْ تعْلَمُونَ اس کے بعد فرمایا: (انفال: ۲۸) انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی ایک بڑی غرض یہ ہوتی رہی ہے کہ ایک ایسی قوم پیدا ہو جو ایک طرف حقوق اللہ کو ادا کرنے والی ہو تو دوسری طرف حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی ہر طرح کوشاں رہے۔اس آیت کریمہ میں جو ان آیات میں سے میں نے پہلے پڑھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلی امتیں بھی لوگوں کی بھلائی کے لئے ہی پیدا کی گئی تھیں۔لیکن امت مسلمہ محمد رسول اللہ اللہ کے ذریعہ پیدا کی جارہی ہے وہ ان تمام امتوں سے بہتر اور بزرگ تر ہے۔اس لئے کہ پہلے انبیاء کو ” کامل معروف عطا نہیں ہوا تھا اور پہلے انبیاء کو منکر کی وہ باریک باتیں نہیں بتائی گئی تھیں جن کو چھوڑنے کے بغیر اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا نہیں ہو سکتا۔لیکن چونکہ تم اے امت مسلمہ کے افراد اس امت کی طرف منسوب ہو رہے ہو۔جسے المعروف اور المنکر کا علم دیا گیا ہے۔اور تم سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ تم السمعروف کے مطابق عمل کرو گے اور کرواؤ گے اور تم سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ تم السمنکر کے مطابق بدیوں اور کوتاہیوں سے بچو گے۔اور دوسروں کو بھی بچنے کی تلقین کرتے رہو گے۔اس لئے تم ہی وہ