مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 99 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 99

99 فرموده ۱۹۶۸ء دو مشعل راه جلد دوم دد خدا محتاج نہیں ہم محتاج ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو مضامین بیان کئے ہیں وہ ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں اور دوسرے مضامین کیلئے دلائل مہیا کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ سورہ فاطر میں اللہ تعالی انہی لوگوں کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ سچ تو یہ ہے کہ انتسم الفقراء الی اللہ تم خدا کے فضلوں کے حاجتمند ہو۔تم اس احتیاج کا احساس پیدا کر لوتم یہ سمجھ لو کہ دنیا کی کوئی نعمت اور کوئی اخروی نعمت ہمیں اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نہ کرے۔کیونکہ اس دنیا کی ملکیت بھی اس کے قبضہ میں ہے اور اس دنیا کی نعمتیں بھی اس کے ارادہ اور منشاء کے بغیر کسی کومل نہیں سکتیں۔تمہیں (جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے ) جوتی کا ایک تسمہ بھی اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا منشاء نہ ہو۔ہر چیز میں ہر وقت اور ہر آن تم محتاج ہو۔تمہارے اندر اپنے رب کی احتیاج ہے۔خدا تمہارا محتاج نہیں۔خدا تعالیٰ تو غنی ہے والله هو الغنی حقیقی غنا اسی کی ذات میں ہے کوئی اور بستی ایسی نہیں جس کی طرف ہم حقیقی غنا کو منسوب کر سکیں اور کہہ سکیں کہ اس کے اندر غنا پائی جاتی ہے اور وہ غنی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نیک بندہ صفات باری کا مظہر بنتے ہوئے غنا کی صفت بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق اپنے رب سے پائے۔پھر وہ ایک معنی میں غنی بھی بن جاتا ہے۔ایک معنی میں وہ ربوبیت بھی کرتا ہے اور رحمانیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے اور رحیمیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے۔وہ معاف بھی کرتا ہے اور مالک یوم الدین کے جلوے بھی دکھاتا ہے لیکن یہ سب نسبتی اور طفیلی چیزیں ہیں۔انسان اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور اس کی دی ہوئی توفیق سے صفات باری کا مظہر بنتا ہے۔اگر خدا کا سہارا نہ ہو تو پھر خدا تعالیٰ کی صفات کا کون مظہر بن سکے؟ ہاں جب اللہ تعالیٰ خود اپنا سہارادیتا ہے اور اپنے فضل سے نوازتا ہے تو انسان اس کی صفات کا ملہ کا محدود دائرہ میں اور طفیلی طور پر مظہر بھی بنتا ہے اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق بنتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا الکسیسٹی یعنی کامل غناوالی ذات تو اللہ کی ہے۔اور وہ فنی ہونے کے لحاظ سے تمہارا محتاج نہیں اور الغنٹی کے اندر یہ مفہوم بھی آ گیا ( جس کو پہلے فقرہ میں کھول کر بیان کیا گیا تھا) کہ تم میں سے ہر ایک کو اس کی احتیاج ہے تم زندہ نہیں رہ سکتے جب تک حسی خدا تمہاری زندگی کی ضرورت کو پورا کرنے والا نہ ہو۔اور اپنی حیات کا ملہ سے تمہیں ایک عارضی زندگی نہ عطا کرے۔تمہاری استعداد میں اور قو تیں قائم نہیں رہ سکتیں جب تک کہ خدائے قیوم کا تمہیں سہارا نہ ملے۔سب تعریفوں کی مالک اس کی ذات ہے۔اس لئے وہ تمہاری احتیاجوں کو پورا کرتا ہے اور تمہارے دل سے یہ آواز نکلتی ہے کہ الحمدللہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ تم اس کے محتاج ہو اور وہ تمہارا محتاج نہیں اس لئے تم اپنی فکر کرو۔ان يشأ يذهبكم اگر وہ چاہے تو روحانی حیات سے تمہیں محروم کر دے۔ویسات بخلق جدید اور ایک اور ایسی قوم پیدا کر دے جو اپنے کو اس کیلئے فنا کر دے اور اس میں ہو کر ایک نئی زندگی پائے۔خلق جدید کا ایک نظارہ دنیا دیکھے گی۔پھر وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔