مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 98 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 98

فرموده ۱۹۶۸ء 98 د مشعل راه جلد دوم گے کہ وہ اس لئے اس جہنم میں آیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ نہیں کیا کرتا تھا۔سیطوقون ان کے گلے میں ایک طوق ڈالا جائے گا۔اور وہ طوق تمثیلی زبان میں ان اموال کا ہو گا جو اس دنیا میں خدا کی راہ میں خرچ نہ کر کے وہ بچایا کرتے تھے۔اور اس طوق کی وجہ سے ہر وہ شخص جو جہنم میں پھینکا جائے گا جان لے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کہا گیا تھا کہ اپنی عاقبت سنوارنے کیلئے اور خدا کو راضی کرنے کیلئے اپنے اموال اس کے سامنے پیش کرو مگر انہوں نے اس کی آواز نہ سنی اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک نہ کہا اور دنیا کے اموال کو اخروی بھلائی پر ترجیح دی اور نتیجہ اس کا یہ ہے کہ آج یہ جہنم میں ہیں اور ذلت کا عذاب انہیں دیا جارہا ہے۔جہنم کے عذاب میں تو سارے شریک ہیں لیکن یہ طوق بتارہا ہوگا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اموال کی تو حفاظت کیا کرتے تھے لیکن اپنی جانوں کی حفاظت نہیں کیا کرتے تھے۔اپنی ارواح کی حفاظت نہیں کیا کرتے تھے۔ایک نتیجہ اس بخل کا اس دنیا میں نکلے گا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الله ميراث السموت والارض آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی میراث ہے اور میراث کے ایک معنی لغت نے یہ بھی کئے ہیں کہ ایسی چیز جو بغیر کسی تکلیف کے حاصل ہو جائے۔پس اللہ جو خالق ہے۔رب ہے اور جس کی قدرت میں اور طاقت میں ہر چیز ہے جس کے محسن کہنے سے ساری خلق معرض وجود میں آئی ہے۔کسی چیز کے پیدا کرنے یا اس کے حاصل کرنے میں اسے کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی اور جب ہر چیز اللہ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جو شخص بھی اللہ کو ناراض کرے گا وہ اس دنیا میں اموال کی برکت سے محروم ہو جائے گا یا کوئی اور دکھ اس کو پہنچایا جائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایک مثال دی اور وہ یہود کی مثال ہے کہ جب مسلمانوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں اپنے اموال خرچ کرو تو یہود میں سے بعض کہتے ہیں کہ اچھا۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اللہ ہو فقیر اور ہم ہوئے بڑے امیر۔ہمارے اموال کی خدا کو ضرورت پڑ گئی ہے اس لئے وہ ہم سے مانگ رہا ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا چونکہ بل کے ساتھ ذات باری کا استہزاء بھی شامل ہو گیا ہے اس لئے انہیں عذاب حریق یعنی ایک جلن والا عذاب دیا جائے گا اور ان لوگوں پر جنہوں نے اس قسم کے فقرے مسلمانوں کو ورغلانے اور بہکانے کیلئے کہے تھے اسی دنیا سے جلن کا عذاب شروع ہو گیا تھا۔اسلام ترقی کرتا چلا گیا اور وہ لوگ جو غریب تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے ساری دنیا کے اموال ان کے قدموں پر لا ر کھے۔اور جو مخالف بھی خدا تعالیٰ کے ان فضلوں اور انعاموں کو دیکھتا تھا وہ اس بات کا مشاہدہ کرتا تھا کہ سچا ہے وہ جس نے یہ کہا تھا کہ اللہ میراث السموت والارض اور جو شخص مخالفت کو چھوڑنے کیلئے بھی تیار نہیں تھا اس کے دل میں ایک جلن پیدا ہوتی تھی۔یہ دیکھ کر کہ یہ لوگ غریب تھے، ہمارے محتاج تھے ، ہم ہی ان کی ضرورتیں پوری کرتے تھے اور ہمارے بغیر ان کی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتی تھیں (ان دنوں جو یہود عرب میں آباد تھے وہ عربوں کو قرض دیا کرتے تھے ) غرض ان کے دلوں میں یہ دیکھ کر جلن پیدا ہوتی تھی کہ یہ بہت تھوڑے عرصہ میں یعنی چند سال کے اندر اندر اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو قبول کر کے اس قسم کے نتائج نکالے ہیں کہ ساری دنیا کی دولت ان کے قدموں پر لا ڈالی ہے۔