مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 71 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 71

71 فرمودہ ۱۹۶۷ء د و مشعل راه جلد دوم شان نظر آئی اس کے بعد جب ہم کٹم کے پاس پہنچے تو وہاں بھی انتظام موجود تھا۔مجھے یہ پتہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے وہاں کیسے انتظام کیا۔مجھے صرف یہ پتہ ہے کہ وہاں انتظام تھا۔کسٹم والے جب سامان کھولتے ہیں تو اسے بکھیر دیتے ہیں۔گویا پہلے سامان کو تہہ کرو پھر سوٹ کیس کو بند کرو۔پھر اس کے بعد وہ اس پر ایک پرچی لگاتے ہیں۔ہم سات آٹھ آدمی تھے ( کچھ آدمی وہاں سے بھی ہمارے ساتھ مل گئے تھے۔یہاں سے تو ہم چھ آدمی ہی گئے تھے لیکن کوپن ہیگن میں جو لوگ ہمارے ساتھ مل گئے تھے۔ان کے سمیت شاید اس سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔پھر کافی سامان تھا اس پارٹی کا پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کس طرف سے اور کیسے یہ سمجھایا اور ان کے کانوں کو کھینچا کہ اگر پر چی لگاؤ گے تب بھی ان کے تین چار منٹ ضائع ہوں گے۔چنانچہ انہوں نے پر چی بھی نہ لگائی بلکہ کہا آپ پہلے جائیں۔ہم باہر نکل آئے تو کئی سو دوست وہاں انتظار کر رہے تھے۔وہ بہت محبت اور پیار کے ساتھ ہمیں ملے۔اور ہم بھی انہیں بڑی محبت اور پیار کے ساتھ ملے گو پریشانی بالکل معمولی تھی۔آدھا گھنٹہ یا گھنٹہ وہاں ٹھہر نا پڑتا یہ کوئی چیز نہیں تھی معمولی بات تھی لیکن ہمیں ایک ذرہ بھی پریشانی نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے اتنی چھوٹی سی بات کا بھی خیال رکھا اور ہمیں یہ معمولی تکلیف بھی نہ پہنچنے دی۔غرض اللہ تعالیٰ بڑا پیار کرنے والا ہے۔اس کے صلى الله ساتھ ہمارا تعلق ہونا چاہیئے۔پھرنی کریم ﷺ کا ہم پر اتنا بڑا احسان ہے کہ ہماری عقلیں اس احسان کو اپنے احاطہ میں نہیں لاسکتیں۔ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم محمد رسول اللہ علے سے انتہائی محبت اور پیار کر نیوالے ہوں۔ہر وقت آپ پر درود بھیجنے والے ہوں پھر قرآن کریم سے ہمیں محبت ہونی چاہیئے جو نور ہی نور ہے۔آدمی دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔اگر دنیا کے سارے علوم مل کر قرآن کریم پر اعتراض کرنا چاہیں تو آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو توفیق ہے کہ ان کو خاموش کرنے والے جواب دیں۔اور جن لوگوں پر وہ اعتراض کر رہے ہوں۔وہیں اسے قرآن کی خوبیوں اور اس کے حسن کو نکال کر ان کے سامنے پیش کیا جائے۔یہ توفیق اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو دی ہے۔غرض قرآن کریم سے محبت کرنا بڑا ضروری ہے۔جو شخص قرآن کریم سے پیار نہیں کرتا اور قرآن کریم کی محبت اپنے دل میں نہیں رکھتا وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث نہیں بنتا۔اور یہ ساری چیزیں ہمیں محمد رسول اللہ علہ کے ایک عظیم فرزند کے ذریعہ ملی ہیں۔جو ہمارے سلسلہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی معہود ہیں۔پس جن کے طفیل اور جن کے ذریعے یہ صداقتیں ہم پر کھلیں جن کی وجہ سے وہ راہیں ہمیں ملیں جن راہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیا تھا اور اس کے پیار کے نمونے ہم نے اپنی زندگیوں میں دیکھے ان سے بھی پیار کرنا بڑا ضروری ہے۔پس آج وہ سبق جو اس اجتماع میں میں آپ کو دینا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے پیار کرو جتنا پیار تم کسی وجود سے کر سکتے ہو۔اس سے بھی زیادہ اور اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی قرآن کریم کی اسلام کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرو۔مائیں جو محبت اپنے بچوں کو دیتی ہیں وہ اس محبت کا ار بواں حصہ بھی نہیں جو خدا تعالیٰ سے ہمیں ملتی ہے۔پھر کتنے ہیں جن کی مائیں بچپن میں فوت ہو جاتی ہیں اور وہ